’القاعدہ برطانیہ کی سڑکوں پر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں لندن میٹروپولیٹن پولیس کے سابق سربراہ سر جان سٹیونز نے کہا ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کم سے کم دو سو ’دہشت گرد‘ برطانیہ میں متحرک ہیں اور یہاں حملے کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ انسداد دہشت گردی کے قانون کو منظور کروانے میں دیر نہ کرے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت پر اس مجوزہ قانون کو منظور کروانے کے منصوبے کی وجہ سے تنقید کی جس کے تحت ملزم کو بغیر ٹرائل کے زیر حراست رکھا جا سکے گا۔ نیوز آف دی ورلڈ میں ایک مضمون میں سر جان نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کے تربیت یافتہ شدت پسند ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے سر جان کے بیان کو الجھی ہوئی صورتحال کو مزید الجھانے کی کوشش قرار دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انصاف اور عدل برطانوی قانون کے اہم ستون ہیں اور ان کو کھونا نہیں چاہیے۔ لیکن سر جان کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی قانون کی منظوری میں تاخیر سے القاعدہ کو راحت ملے گی۔ مجوزہ قانون کے تحت حکام کو کرفیو لگانے کا اختیار ملے گا، وہ ملزمان کا پیچھا کر سکیں گے اور ان کو ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کے استعمال سے روک سکیں گے۔ سر جان نے کہا ہے کہ برطانیہ میں حملوں کے منصوبوں کی رپورٹیں دیکھ کر ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے داخلی امور کے ترجمان مارک اوٹن کا کہنا ہے کہ سر جان خطرات سے آگاہ کرنے میں حق بجانب ہیں لیکن ان کے خیال میں عدل کے اصولوں کی پابندی سے قومی سلامتی خطرے میں نہیں پڑ سکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||