BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 April, 2004, 21:15 GMT 02:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ کی آڈیوٹیپ: مکمل متن
اسامہ بن لادن
اسامہ کی یورپ اور امریکہ کو تقسیم کرنے کی کوشش
العربیہ اور الجزیرہ سیٹلائٹ چینلز سے ایک آڈیو ٹیپ جسے اسامہ بن لادن سے منسوب کیا گیا ہے، نشر کی گئی ہے۔ اس ٹیپ میں سنائی جانے والی آواز یورپ کو مفاہمت کی پیشکش کرتی ہے۔

العربیہ سے نشر کی جانے والی آڈیو ٹیپ کا متن مندرجہ ذیل ہے۔

سب تعریف اللہ کے لئے ہے۔ ہمارے پیارے پیغمبر محمد، ان کے خاندان اور ان کے ساتھیوں پر امن اور سلامتی ہو۔

یہ پیغام بحیرہ روم کےشمال میں بسنے والے ہمسایہ ممالک کے نام ہے اور اس میں ان ممالک کے مثبت ردعمل کی صورت میں مفاہمت کی پیشکش کی گئی ہے۔

سب تعریف اللہ کے لئے ہے۔ سب تعریف اللہ کے لئے ہے۔ سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے انصاف کے ساتھ زمین اور آسمان بنائے اور جس نے مظلوموں کو ظالموں کو سزا دینے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

سلام ان لوگوں پر جو صراطِ مستقیم پر چلے۔

’ظلم قاتلوں کو قتل کر دیتا ہے‘

میرے ہاتھوں میں آپ کو یہ یاد دلانے کے لئے ایک پیغام ہے کہ انصاف نہ صرف ان لوگوں کا حق ہے جن سے آپ محبت کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کا بھی جن سے آپ محبت نہیں کرتے۔ لوگوں کے حقوق کو ان کے کسی مخالف کے اختلاف کرنے سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

جان کے تحفظ کا سب سے بڑا اصول انصاف کی فراہمی اور ناانصافی اور جارحیت کو روکنا ہے۔ یہ کہا گیا تھا: ظلم قاتلوں کو قتل کر دیتا ہے اور ناانصافی کی بنیاد برائی ہے۔ فلسطین کی صورتحال ایک مثال ہے۔ گیارہ ستمبر، دو ہزار ایک اور گیارہ مارچ (میڈرڈ کے ٹرین دھماکے) کو جو کچھ ہوا، وہ آپ کا ہی دیا ہوا تھا جو آپ کو لوٹا دیا گیا۔

سب جانتے ہیں کہ جان کا تحفظ تمام انسانیت کے لئے لازمی ضرورت ہے۔ ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے کہ آپ اسے صرف اپنے تک محدود کر لیں۔ مستعد لوگ اپنے سیاستدانوں کو اپنے تحفظ میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتے۔

اس کے بعد ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں اور ہمارے اعمال کو دہشت گردی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اور آپ کے اعمال بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہر عمل کا اتنا ہی ردعمل ہوتا ہے۔ ہمارے اعمال آپکے ان اعمال کا ردعمل ہیں جن میں مسلمانوں کو افغانستان، عراق اور فلسطین میں قتل و برباد کیا گیا۔

حماس کے بزرگ اور معذور روحانی رہنما شیخ احمد یاسین کا دنیا کو لرزا دینے والا قتل اس کا کافی ثبوت ہے۔

ہم خدا سے وعدہ کرتے ہیں کہ اس نے چاہا تو ہم امریکہ کو اس قتل پر سزا دیں گے۔

مفاہمت کی بنیاد
 ہر وہ ملک جو مسلمانوں پر حملہ نہ کرنے اور ان کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دینے کا وعدہ کر لے اور جس میں ساری مسلمان دنیا کے خلاف امریکی سازش بھی شامل ہے، تو ہم ان پر حملے بند کر دیں گے
اسامہ بن لادن

وہ کونسا مذہب ہے جو آپ کے ہلاک شدگان کو معصوم اور ہمارے ہلاک شدگان کو بے مصرف قرار دیتا ہے۔ وہ کونسا اصول ہے جس کے تحت آپکا خون ’خون‘ ٹھہرتا ہے اور ہمارا خون ’پانی‘۔ مساوی سلوک انصاف کا تقاضا ہے اور ناانصافی کا آغاز کرنے والے پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

’خون کے پیاسے‘

جہاں تک آپ کے سیاستدانوں اور ان کے معتقدین کا تعلق ہے، جہاں تک ان کے اصل مسئلہ یعنی فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کو نظر انداز کرنے کا تعلق ہے، جہاں تک ان کے ہمارے حق ِدفاع کے بارے میں تک بولے والے جانے جھوٹ کا تعلق ہے، تو یہ لوگ باعث احترام نہیں ہیں۔

مزید براں آپ کے اور ہمارے ممالک میں ہونے والی ہلاکتوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم سے اور آپ سے ہونے والی ناانصافی کی ذمہ داری آپ کے سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے جو آپ کے بچوں کو آپ کے نہ چاہنے کے باوجود ہمارے ملکوں میں لڑنے اور مرنے کے لئے بھیج دیتے ہیں۔

اس لئے یہ دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے کہ وہ ان لوگوں کے عزائم کو ناکام بنا دیں جو اپنے مذموم ذاتی مقاصد اور وائٹ ہاؤس کی وفاداری میں اپنے عوام کا خون بہاتے ہیں۔

ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اس جنگ کا نتیجہ بڑی کمپنیوں کے لئے اربوں ذالرز کے منافع کی صورت میں نکلتا ہے۔ ان میں نہ صرف وہ کمپنیاں شامل ہیں جو ہتھیار بناتی ہیں بلکہ وہ بھی جو جنگ کے بعد تعمیر ِنو کا کام کرتی ہیں جیسے ہیلی برٹن اور اس جیسی اور بہت سی کمپنیاں۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس جنگ کو بھڑکانے اور انسانی خون بہنے سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہورہا ہے۔ وہ خون چوسنے والے جنگی جنونی ہیں جو پردے کے پیچھے سے دنیا کی پالیسی کو ترتیب دے رہے ہیں۔

صدر بش کے حلقہ اثر میں گردش کرنے والے رہنما، ذرائع ابلاغ کے بڑے ادارے اور اقوام ِ متحدہ جو سلامتی کونسل میں ویٹو والےملکوں اور قوموں کے درمیان تعلقات کے لئے قوانین بناتی ہے، یہ سب دنیا کی اقوام کو دھوکا دینے کے لئے ایک آلہ کار کا کام کرتے ہیں۔

یہ سب تمام دنیا کے لئے ایک مہلک خطرہ ہیں۔

اس گروہ میں سب سے خطرناک اور مشکل صیہونی لابی ہے۔ اللہ نے چاہا تو ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔

اسامہ بن لادن
اسامہ کی امن کی دعوت پر دنیا کا ردعمل کیا ہو گا

’مفاہمت کی دعوت‘

مندرجہ بالا کی بنیاد پر اور جنگ کے سوداگروں کو جنگ کا موقعہ نہ دینے کے لئے
اور ان مثبت عوامی جائزوں کی بنیاد پر جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی اقوام امن چاہتی ہیں، میں ایماندار لوگوں خاص طور پر علماء، مبلغین اور تاجروں سے درخواست کروں گا کہ ایک مستقل کمیٹی بنا لیں۔ یہ کمیٹی یورپی اقوام کو ہمارے منصفانہ مقاصد بشمول فلسطین کے بارے میں آگہی دے۔ اس مقصد کے لئے ذرائع ابلاغ کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

میں ان کو مفاہمت کی پیشکش کرتا ہوں۔ اس مفاہمت کی بنیاد یہ ہو گی کہ
وہ تمام ممالک جو مسلمانوں پر حملہ نہ کرنے اور ان کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دینے کا وعدہ کر لیںاور جس میں ساری مسلمان دنیا کے خلاف امریکی سازش بھی شامل ہے، تو ہم ان پر حملے بند کر دیں گے۔

اس مفاہمت کی تجدید پہلی حکومت کی متفق شدہ مدت کے خاتمہ پر اور دوسری حکومت کے قیام کے موقع پر دونوں فریقین کے اتفاق رائے سے کی جا سکتی ہے۔

مفاہمت کا آغاذ ہمارے ملک سے ان کے آخری فوجی کے انخلاء سے ہو گا۔

مفاہمت کی یہ تجویز اس اعلان سے تین مہینے کے عرصے تک قبول کی جا سکتی ہے۔

وہ لوگ جو اس مفاہمت کو رد کرتے ہیں اور جنگ چاہتے ہیں، ان کے لئے ہم پوری طرح تیار ہیں۔

اور وہ لوگ جو مفاہمت چاہتے ہیں، ان کو ہم موقع دے رہے ہیں۔ اپنا خون بہنے سے بچانے کے لئے ہمارا خون بہانا بند کر دو۔ اس آسان لیکن مشکل طریقے پر عمل کرنا آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ تاخیر سے حالات مزید خراب ہوں گے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو ذمہ داری ہم پر نہیں بلکہ آپ پر ہو گی۔

اسامہ بن لادن
اسامہ امریکہ کے لئے مسلسل درد ِسر بنے ہوئے ہیں

کوئی بھی عقلمند انسان صرف وائٹ ہاؤس کے جھوٹے کو خوش کرنے کے لئے اپنا جانی تحفظ، مال اور بچوں کو خطرے میں نہیں ڈالتا۔

اگر وہ اپنے امن کے دعوے کے بارے میں سچا ہوتا تو کبھی بھی صابرہ اور شتیلہ میں حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرنے والے (اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی طرف حوالہ) اور شکست کے منصوبہ ( فلسطین اور اسرائیل امن منصوبہ) کو تباہ کرنے والے شخص کو امن کا آدمی نہ کہتا۔

اس نے لوگوں سے یہ جھوٹ بھی نہ بولا ہوتا کہ ہم آزادی سے نفرت کرتے ہیں اور قتل برائے قتل پر یقین رکھتے ہیں۔حقائق ہماری سچائی اور اس کے جھوٹ کو ثابت کرتے ہیں۔

روسیوں کاقتل ان کے افغانستان اور چیچنیا پر حملے کے بعد ہوا۔ یورپیوں کا قتل ان کے عراق اور افغانستان پر حملے کے بعد ہوا اور امریکیوں کا قتل ’نیویارک ڈے‘ کو امریکیوں کی فلسطین میں صیہونیوں کی حمایت اور عرب جزیرہ پر حملہ کے بعد ہوا۔

صومالیہ میں ان کا قتل ان کے صومالیہ پر حملے کے بعد ’ آپریشن ریسٹور ہوپ‘ کے دوران ہوا۔ ہم نے اللہ کی تائید سے انہیں ناامید ہو کر وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ ایک خوش آدمی وہ ہوتا ہے جو دوسروں کے تجربات سے سبق سیکھے۔

سیدھے راستے پر چلنا جھوٹ پر اصرار سے بہتر ہے۔

اللہ کی رحمت ہو اس پر جو اس کی رہنمائی پر عمل کرتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد