یورپ کو اسامہ کا پیغام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسامہ بن لادن سے منسوب ایک آڈیو ٹیپ میں کہا گیا ہے کہ اگر یورپی ممالک عراق پر امریکی قبضے اور دہشت گردی کےخلاف جنگ کی حمایت بند کر دیں تو ان پر حملے معطل کیے جا سکتے ہیں۔ عربی سٹیلائٹ سٹیشنوں سے نشر ہونے والے اس ٹیپ میں کہا گیا ہے کہ یورپی اور امریکی اہداف پر کیے گئے حملوں کا مقصد دہشت گردی نہیں بلکہ عراق، فلسطین اور افغانستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں کا جواب ہے۔ ٹیپ میں سنائی دینے والی آواز کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اسامہ کی آواز ہے جس میں اس نے یورپی ممالک کو ’بحیرہ روم میں کےشمال میں بسنے والے ہمسایہ ممالک‘ کے نام سے مخاطب کیا ہے۔ اس خطاب کا مقصد یورپی عوام کی رائے جاننا ہے۔
بڑی مہارت سے ترتیب دیے گیے الفاظ والے اس ٹیپ میں امریکی جنگ اور کثیرالملکی کمپنیوں کے مابین تعلقات کا تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔ ٹیپ سے نشر ہونے والی آواز کے مطابق اس جنگ اور تباہ کاری کا فائدہ صرف انہی کمپنیو ں کا پہنچا ہے۔ ٹیپ کی زبان سے صاف ظاہر ہے کہ اس کے ذریعے بائیں بازو والے یورپی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ اس ٹیپ ایک بڑا مقصد یورپ اورامریکہ کے درمیان سوچ کی خلیج قائم کرنا ہے۔ تاکہ وہ یورپی سیاست دان جو امریکی حمایت والی آرا رکھتے ہیں ان کی سوچ کا رُخ تبدیل کیا جا سکے۔ ٹیپ میں یورپی ممالک کے لوگو ں کا مخاطب کر کے یہ بتانے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ ’آپ کے سیاستدان فلسطین سے متعلق اصل مسئلے کو نظر انداذ کر جاتے ہیں‘۔ ٹیپ سے آنے والی آواز کے بقول ’ آپ کے سیاستدان ہی ہیں جوآپ کی مخالفت کے باوجود آپ کے بیٹوں کو مرنے اور مارنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ ہم بھی آپ ہی کی طرح نا انصافی کا شکار ہیں۔ جوآپ کے سیاست دانوں کی روا رکھی ہوئی ہے‘۔ آخر میں ٹیپ سے آنے والی آواز یہ پیش کش کرتی ہے کہ اگر یورپی افواج اس اعلان کے تین ماہ کے اندر اندر ان مسلم ممالک سے باہی نکل آتی ہیں جہاں وہ فی الحال قابض ہیں تو مفاہمت کی راہ نکل سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||