BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 July, 2006, 16:49 GMT 21:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کا انکار، مشکلات میں اضافہ

بیروت
بے گھر ہونے والے اپنے مستقل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے
اسرائیل نے فائربندی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ لبنان میں بمباری کے ساتھ ساتھ مسلسل مختلف بیانات آ رہے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ پراپگینڈے کی جنگ جاری ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس ایک بار پھر علاقے کا دورہ کرنے والی ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ اس کا کوئی ٹھوس نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں۔

سفارتی کارروائی جس کا اب تک ٹھوس نتیتجہ نہیں نکل پایا اور بیان بازی میں عام لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

اسرائیل خود کنفیوز ہے۔ ایک طرف وہ کہتا ہے کہ حزب اللہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اور دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ اگر فائر بندی کا مطالبہ مان لیا جائے تو حزب اللہ کو اکٹھا ہونے کا موقع مِل جائے گا۔

اسرائیلی سرحد کے قریبی شہر طائر کو محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا تھا اور بڑی تعداد میں بے گھر ہونے والے لوگ وہاں جمع ہو رہے تھے لیکن وہاں بمباری شروع ہونے کے بعد لوگوں کو وہاں سے نکلنا پڑ رہا ہے۔ وہاں مسلسل بمباری ہو رہی ہے اور تاک تاک کر نشانے لگائے جا رہے ہیں۔

آزادی
 اے پرندے تمہارا گھر کہاں ہے۔ ہم بھی تو تمہاری طرح خوبصورت ہوں لیکن تم آزادی سے آڑتے پھر رہے ہو۔ اے پرندے آخر تماہرا گھر کہاں ہے
آٹھ سالہ فرح، بیروت

اسرائیلی بیان وقت حاصل کرنے کا طریقہ معلوم ہوتے ہیں۔ کونڈولیزا رائس دوبارہ خطے میں آ رہی ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا کرتی ہیں۔ کوئی ٹھوس کام ہوتا ہے یا یہ بھی وقت حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔

مغربی بیروت کے ایک سکول کا دورہ
مغربی بیروت کے ایک آٹھ کمروں اور دو ہالوں میں ایک سو دس خاندان رہ رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اسرائیلی سرحد سے متصل دیہات سے آئے ہیں اور ایک اچھی خاصی تعداد کا تعلق بیروت سے ہی ہے۔

انہیں پناہ گزینوں میں ایک سکول ٹیچر لینا بھی تھیں جو اپنے خاوند اور دو بچوں کے ساتھ وہاں رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خوراک اور ادویات تو میسر ہیں لیکن پانی کی شدید قلت ہے۔ لینا کو انیس سو ستانوے میں بھی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے گھر چھوڑنا پڑا تھا۔

لینا کے چھ سالہ بیٹے جعفر نے لبنان کے لیئے ایک ترانہ بھی سنایا جس کا مفہوم تھا کہ لبنان اس کے خون میں بستا ہے۔ جعفر کے دوست محمد جمال نے کہا کہ اسے اس سکول میں بھی ڈر لگتا ہے کہ اسرائیلی طیارے آ جائیں گے۔

اسی سکول میں ایک اور پناہ گزیں حسن طاہر سے ملاقات ہوئی جو اپنے چھ بچوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں کیونکہ سعودی سفیر بھی وہیں رہ رہے ہیں۔

کیمپ میں آٹھ سالہ بچی فرح نے عربی زبان میں ایک گیت سنایا جس میں وہ پرندے سے پوچھتی ہیں کہ اس کا گھر کدھر ہے۔’ہم بھی تو تمہاری طرح خوبصورت ہیں لیکن تم آزادی سے آڑتے پھر رہے ہو۔ اے پرندے آخر تماہرا گھر کہاں ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد