براہ راست: قانا سے آنکھوں دیکھا حال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر اتوار کی شب ایک بجے لبنان کے جنوبی شہر طائر کے قریبی گاؤں قانا میں ایک عمارت پر اسرائیلی بمباری میں چالیس شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جن کا جائزہ لینے کے لیے بی بی سی کے صحافی وویک راج اتوار کی صبح قانا پہنچے۔ ان کی رپورٹ حسب ذیل ہے: جب ہم صبح قانا پہنچے تو دیکھا کہ دو دو منزلہ عمارتیں تھیں جو پوری طرح سے تباہ کردی گئی تھیں۔ اسرائیلی بمباری سے بچنے کے لیے لوگ عمارت کے تہہ خانے میں چھپ کر بیٹھے تھے، اس جگہ سے ریڈ کراس کے لوگ اب لاشوں کو نکال رہے تھے۔ میں نے خود قریب پچیس لاشیں گنیں جن میں سے بارہ لاشیں بچوں کی تھیں۔ بچے اور خواتین بم سے بچنے کے لیے تہہ خانے میں چھپے اور وہیں پر مارے گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس علاقے سے کافی ’کتوشا‘ راکٹ فائر کیے گئے ہیں اور اسی لیے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو بچائے جس کے لیے اس نے یہاں پر حملہ کیا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی کہیں سے کتوشا راکٹ فائر کیے جاتے ہیں تو اس کے فوری بعد ایک یا دو منٹ کے اندر ریموٹ سے کنٹرول کیا جانے والا بغیر پائلٹ والا اسرائیلی طیارہ ’ڈرون‘ اس علاقے کی تصویر لیکر واپس اسرائیل بھیجتا ہے جس کے بعد اس علاقے پر طیارے، بحریہ کے میزائیل یا توپوں سے دس یا گیارہ منٹ کے اندر اسرائیل حملہ کرتا ہے۔ لیکن یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ اسرائیلی حملے سے قبل قانا سے کتوشا راکٹ داغے گئے تھے یا نہیں، لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے، لیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہاں سے راکٹ داغے گئے تھے جس کے جواب میں حملہ کیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قانا سے کوئی راکٹ نہیں داغا گیا اور وہاں حزب اللہ کے کوئی لوگ نہیں ہیں۔ لیکن کچھ اور بھی مقامات پر ہم نے دیکھا ہے جہاں اسرائیل نے حملے کیے تھے کہ وہاں سے راکٹ داغے جانے کے کچھ شواہد موجود تھے، جیسے کہ آس پاس کے باغات میں ایک دائرے میں جلے ہوئے درخت۔ اسرائیل نے کچھ روز قبل بھی پرچے گرائے تھے کہ لوگ لیتانی دریا کے شمال میں چلے جائیں، لیکن یہاں لوگوں نے بتایا کہ مشکل یہ ہے کہ ان کے پاس اگر گاڑی ہے تو پیٹرول نہیں، پیٹرول پمپوں کو تباہ کردیا گیا ہے، تو وہ یہاں سے کیسے نکلیں؟ چونکہ لبنان میں کئی سال اسرائیل کا قبضہ رہا تھا اور خانہ جنگی تھی اس لیے لوگ جب مکان بناتے ہیں تو اس کے اندر تہہ خانہ بھی بناتے ہیں تاکہ کسی حملے سے بچنے کے لیے اس میں پناہ لے سکیں لیکن یہ تہہ خانے بنکر کی طرح بم پروف تو ہوتے نہیں لیکن پھر بھی مضبوط ہوتے ہیں۔ گزشتہ شب جب بم گرا یہاں پناہ لینے والے لوگ مارے گئے، لوگوں میں کافی غصہ ہے، وہ لوگ بچوں کی لاشیں دکھا رہے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ ’کیا یہ حزب اللہ ہے؟‘ جس کے لیے اسرائیل نے اتنا بڑا حملہ کیا ہے۔
اس کا غصہ بیروت میں دیکھنے میں آیا ہے جہاں لوگوں نے اقوام متحدہ کے دفتر پر مظاہرہ کیا اور کافی توڑ پھوڑ کی، لوگوں میں کافی غصہ ہے کہ اتنے لوگ مارے جارہے ہیں اور پھر بھی کوئی فائربندی کی بات نہیں ہورہی ہے، ایک نئے مشرق وسطیٰ کی بات ہورہی ہے لیکن ابھی لبنان میں جو لوگ مارے جارہے ہیں اس کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا ہے۔ آج جب ہم قانا پہنچے تھے لبنانی ریڈ کراس کے لوگ وہاں تھے جو لاشیں نکال رہے تھے اور ایمبولنس کے ذریعے زخمیوں کو طائر لے جایا جارہا تھا اور جو زیادہ زخمی تھے انہیں آگے (کے شہر سادون) بھیجارہا تھا۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ وہاں بہت برا حال تھا، جب ہم صبح ساڑھے نو بجے پہنچے تو دیکھا کہ کچھ بلڈوزر آنا شروع ہوئے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ رات سے ہی ملبے میں پھنسے ہوئے تھے، لاکھوں کو نکالنا کافی مشکل تھا، میں نے وہاں ریڈ کراس کے افسر کو دیکھا جو باہر بیٹھا رو رہا تھا، اس کا کہنا تھا کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے، ہم کچھ نہیں کرسکتے، ہمارے پاس مشینیں نہیں ہیں، بڑی مشینیں نہیں ہیں، ہم کسی کو بچانا چاہیں تو بچا نہیں سکتے، اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ ہم لوگوں کو بچارہے ہوں اور ہمارے اوپر کوئی بم نہ گرجائے۔ وہاں لوگ بہت ہی بےیارو مددگار لگ رہے تھے۔ اِدھر آج طائر میں بھی بمباری ہوئی ہے، پچھلے کچھ دنوں سے اس علاقے میں بھاری بمباری ہورہی ہے، شہر میں بھی کئی مقامات پر اسرائیلی بحریہ کے میزائل یا ایف سولہ طیاروں کے ذریعے حملہ ہوا ہے، لوگ یہاں یہ سوچ رہے ہیں کیا اسرائیلی فوج یہاں آئے گی، کیا پورے شہر کو تباہ کیا جائے گا، لیکن ابھی بمباری جاری ہے۔ اس وقت تین سرحدی علاقوں میں زمینی لڑائی چل رہی ہے، بنت جبیل، یارون، ۔۔۔ ان علاقوں میں کافی لڑائی ہورہی ہے، یہاں اسرائیلی فوج اندر گھس چکی ہے، ایک چھوٹے سے حصے پر قبضہ بھی کررکھا ہے، لیکن حزب اللہ کے ارکان نے جوابی کارراوئی کی ہے اور بنت جبیل میں پچھلے پانچ چھ دنوں سے لڑائی چل رہی ہے۔ اسرائیل لبنانی زمین پر تو آچکا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ کتنا آگے بڑھتا ہے، پچھلی بار جب لڑائی ہوئی تھی تو وہ بیروت تک آگیا تھا لیکن اس کا اس کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔ گزشتہ دو ہفتے میں مجھے لبنان کے کوئی فوجی نہیں دکھائی دیے، اکا دکا کہیں ہسپتالوں میں دیکھنے کو ملے، حزب اللہ کے لوگ بھی نہیں دکھائی دیتے، وہ گوریلا طریقے اپنا رہے ہیں، حزب اللہ کے لوگ کہیں سے آتے ہیں، راکٹ فائر کرتے ہیں اور وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’ایک تہائی اسرائیل حزب اللہ کی زد میں‘29 July, 2006 | آس پاس ’امن فوج کی تعیناتی متاثر ہوسکتی ہے‘29 July, 2006 | آس پاس اسرائیل کا انکار، مشکلات میں اضافہ29 July, 2006 | آس پاس قانا: اسرائیلی حملے میں بیس بچےہلاک30 July, 2006 | آس پاس ’حزب اللہ کے 26 ارکان ہلاک ہوئے‘29 July, 2006 | آس پاس مشرقِ وسطٰی میں تباہی، کیمرے کی آنکھ سے30 July, 2006 | آس پاس قانا حملہ، عالمی دنیا کی مذمت30 July, 2006 | آس پاس امریکی وزیر خارجہ کی اسرائیل واپسی30 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||