BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 July, 2006, 15:16 GMT 20:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے مشرق وسطی پر شکوک کا اظہار

حزب اللہ نے عرب حلقوں میں ایک مزاحمتی تنظیم کے طور پر مقبولیت حاصل کر لی ہے
بی بی سی کے بیروت بیور میں ’لبنان بارڈر فلیش پوائنٹ’ کے نام سے پانچ سال پرانی ایک وڈیو رپورٹ موجود ہے۔

اس ٹیپ میں تیس سالہ ایک صحافی شمالی علاقے جلیلی کی پہاڑیوں پر لمبے ڈنگ بھرتے ہوئے اداکارانہ انداز میں لبنان کے شمالی، شام میں مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ لڑائی والے اس خطے میں اسرائیل فوج کو یقین ہے کہ مشرق وسطی کی اگلی لڑائی یہیں سے شروع ہو گی۔

یہ صحافی میں تھا جو میں سرحد پر لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری تازہ لڑائی کی رپورٹنگ کے لیے وہاں موجود تھا۔

سنیچر کو امریکہ اور اسرائیل نے کہا کہ ایسا کہنا کہ تمام چیزیں واپس اسی مقام پر چلی جائیں جہاں پر وہ پہلے تھیں، بہت مشکل ہے اس صورت میں کہ جب عرب ملیشیا اسرائیل کی سرحد کے پاس تاک میں بیٹھی ہو۔

واشنگٹن میں نئے مڈل ایسٹ کی باتیں ہو رہی ہیں، مڈل ایسٹ، ایک ایسی جگہ جہاں اعتدال پسند عرب طبقہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ حزب اللہ یا ان کے حواری شام اور ایران کی وجہ سے یہ خطہ پھر کسی لڑائی میں الجھ جائے۔

کیا یہ کوئی حقیقت پسندانہ بات یا محض خیال آرائی ہے؟

امریکہ کے مخالفین نے نئے مشرقی وسطی کے کسی بھی منصوبے کو رد کر دیا ہے اور اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کی بنیاد امریکہ اور اسرائیل کی اس مرضی مطابق رکھی جائے گی۔

اس ہفتے فلسطین کی وازرت خارجہ جو خود بھی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکی ہے، کا کہنا ہے کہ نیا منصوبہ اس غلط سوچ پر منبی ہے کہ اس کے تحت خطے میں موجود سیاسی طاقتوں کا صفایا کیا جاسکے۔

غصے میں بھرے لبنان کے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کون سا نیا مشرق وسطی؟۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی کی تشکیل نو کی امریکی تجاویز سے عراق میں ہلاکتیں اور تباہی ہوئی۔

جنوبی لبنان میں ایک بچہ اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے کے سامنے کھڑا ہے

شام، ایران اور لبنان کی شیعہ ملیشیا، حزب اللہ، کے درمیان قریبی تعلقات سے یہ سوال بھی اٹھا کہ آیا ممکن ہے کہ اس تازہ تشدد کے پیچھے کہیں ایران کا ہاتھ نہ ہو۔

اس تنازعے سے قبل ایران پر مغرب کی جانب سے یورینیم کی افزودگی روکنے کے حوالے سے شدید دباؤ تھا کیونکہ ان ممالک کو شک ہے کہ ایران آگے چل کر ایٹم بم بنا لے گا۔ لیکن مغرب کے خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں کہ ایران نے حزب اللہ کو اس ماہ دو اسرائیلی فوجیوں کو قبضے میں لینے کی ہدایت دی جس نے لبنان کو ایک بار پھر خانہ جنگی میں دھکیل دیا ہے۔

لیکن ایران جو اسرائیل کا بحیثت ملک خاتمہ دیکھنا چاہے گا، اس لڑائی سے واضح طور پر خوش نظر آتا ہے کہ دنیا کی نظریں ایک بار پھر عرب اسرائیل لڑائی پر مذکور ہو گئی ہیں۔ ایران نے 1982 میں اس کوشش میں کہ اس کے اسلامی انقلاب کے کارکن عرب دنیا میں جگہ پاسکیں، حزب اللہ کی تشکیل میں مدد فراہم کی۔ اس کے بعد سے اب تک حزب اللہ نے خودکش بم حملوں، بیروت میں امریکی تنصیات کو نشانہ بنانے کے علاوہ غیرملکیوں کے اغواء کے حوالے سے شہرت حاصل کی ہے۔

ایران کے انقلابی دستے کے گارڈوں نے حزب اللہ کے کارکنوں کو تربیت فرام کی اور انہیں شام کے راستے ایرانی ساخت کے میزائل بھی فراہم کیے جاتے رہے۔

اگرچہ حزب اللہ ایک شیعہ تنظیم ہے مگر اس نے عرب حلقوں میں بھی اسرائیل سے ٹکر لینے کی صلاحیت رکھنے والی واحد جنگجو طاقت کے حیثیت سے خاصی مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ عرب حلقے چھ سال قبل جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کا کافی حد تک کریڈٹ حزب اللہ ہی کو دیتے ہیں۔

اس ہفتے حزب اللہ کے پیلے جھنڈے غزہ کی گلیوں میں پھڑپھڑاتے نظر آتے ہیں ان کے چیف حسن نصراللہ کی داڑھی اور روایتی ٹوپی میں ملبوس عینک والی تصاویر دمشق کے بازاروں میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔

یہ تمام صورت حال سعودی عرب، اردن اور مصر کی اعتدال پسند اور مغرب نواز حکومتوں کے غصے کا باعث ہے۔ وہ کوئی خونی یا پرتشدد تبدیلی نہیں چاہتے اور وہ حزب اللہ کو بھی پسند نہیں کرتے، انہیں ایران کی موجودہ حکومت سے بھی خوشی نہیں اور وہ اس خطے میں ایران سے عراق اور پھر لبنان تک ابھرتی نئی شیعہ طاقت سے بھی محتاط ہیں۔

اسرائیلی بمباری سے جنوبی لبنان کی عمارتیں کھنڈر بن گئی ہیں

ان حکومتوں کے رہنما اس بات کو بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان کے عوام میں حزب اللہ کو مقبولیت حاصل ہے اور عوام جانتے ہیں کہ لبنانی ملیشیا نے ان کی کٹھ پتلی حکومتوں کی جگہ اسرائیلی جارحیت’ کے مقابلے میں زیادہ کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ مغرب نواز حکومتی اس خطے کی سیاسی شطرنج پر کسی گوریلا فورس کو قوت پاتے نہیں دیکھنا چاہتی ہیں۔

حکومت نواز ایک سعودی اخبار کے ایک حالیہ اداریے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حزب اللہ کی لڑائی کی وجہ کو عرب دنیا میں قابل قبول وجہ تسلیم کیا گیا ہے۔ ادرایے میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ضرورت ہے کہ ایرانی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک عرب حکمی عملی سامنے آئے، جو زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

مشرق وسطی میں شروع ہونے والے ہر تنازعے کے پیچھے قومیت، مذہب اور نسلی مقاصد کارفرما ہوتے ہیں اکثرو بیشر یہ سارے مقاصد ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور کھبی نہیں بھی۔ اس الجھی گتھی میں سے کوئی ایک سرا نکالنا کسی بھی صحافی کے لیے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اگر آپ کسی ایک کی طرف داری نہیں کریں تو وہ گروہ آپ کو اپنا مخالف تصور کرے گا۔

لیکن یہ ایک ایسا چلینج ہے جس میں مجھے ہمیشہ سے ہی خاص دلچسپی رہی ہے اور میں ایک بار پھر اسی تجربے سے گزر رہا ہوں کیونکہ میں ایک بار پھر بی بی سی کی رپورٹنگ کے لیے اس دوپہر مشرق وسطی جا رہا ہوں۔

جنگ پر روم اجلاس
زیادہ توقع ممالک کی آراء منقسم ہونے کی ہے
امداد کی جدوجہد
لبنان میں متاثرین تک امداد پہنچانے کی جنگ
حزب اللہ کا گڑھ
بنت جبیل میں اسرائیلی فوج پر حزب اللہ کا حملہ
اسرائیلی فوجیحملوں کا سترہوان دن
لڑائی جاری، نقصان کے اندازے، عالمی رد عمل
جان لین کی ڈائری
عمان سے بیروت تک کا امدادی مشن
’امن کے بدلے زمین’
امریکی حمایت سے لبنان جنگ پھیلنے کا خدشہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد