BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 July, 2006, 06:55 GMT 11:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قانا: ہلاکتوں کی تعداد 60 سے زیادہ

لبنان
تباہ ہونے والی عمارت میں بےگھر لوگ پناہ گزین تھے
جنوبی لبنان کے ایک گاؤں پر اسرائیلی حملے میں 37 بچوں سمیت کم از کم 60 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اتوار کو ہلاکتوں کی تعداد 50 کے قریب بتائی جا رہی تھی لیکن ساٹھ سے زیادہ لاشوں کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔

یہ حملہ اسرائیلی سرحد سے پچیس کلومیٹر دور قانا نامی گاؤں میں ایک تین منزلہ عمارت پر مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے کیا گیا۔


تباہ ہونے والی عمارت کی نچلی منزل میں بے گھر ہونے والے کچھ خاندانوں نے پناہ لی ہوئی تھی۔ مقامی رضاکار ملبے سے لاشیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں آلات کی کمی کی وجہ سے مشکل پیش آ رہی ہے۔

حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ اس ’ہیبت ناک‘ قتل عام کا بدلہ لیں گے۔ دوسری جانب اسرائیلی حملے اب بھی جاری ہیں۔ یارون نامی گاؤں میں ایک اسرائیلی حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو بچے شامل ہیں۔ ایک اور گاؤں خیام میں اسرائیلی فوجیوں اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں۔

خبرساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق انیس روزہ لڑائی میں لبنان میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد ساڑھے سات سو ہو گئی ہے جن میں ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے۔

قانا میں حملے کی خبر عام ہونے کے بیروت میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اقوام متحدہ کے دفتر پر حملہ کر دیا اور عمارت میں گھس کر توڑ پھوڑ شروع کردی۔

لبنان کے وزیر اعظم فواد سنیورا نے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بیروت کا دورہ مؤخر کر دیاہے۔ پروگرام کے مطابق انہیں سنیچر کی دوپہر کو اسرائیل سے بیروت پہنچنا تھا۔

بیروت میں مشتعل عوام نے اقوامِ متحدہ کے دفتر پر حملہ کر دیا

اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق قانا میں جہاں حملہ کیا گیا وہ جگہ اسرائیل پر حملوں کے لیئے استعمال ہوتی تھی اور لوگوں کو پہلے ہی وہاں سے چلے جانے کے لیئے کہا گیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ اس علاقے میں لڑائی کی پوری ذمہ داری حزب اللہ پر آتی ہے۔ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں بھی داخل ہوئی جہاں اطلاعات کے مطابق اس کی حزب اللہ سے لڑائی جاری ہے۔

قانا میں اس سے پہلے انیس سو چھیانوے میں بھی اسرائیل نے حملہ کیا تھا جس میں اقوام متحدہ کے احاطے میں پناہ لینے والے ایک سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جنوبی لبنان میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ علاقے میں بہت سے لوگ یا تو بے انتہا خوفزدہ ہوچکے ہیں یا پھر وہ دوسرے مقامات پر منتقل ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

اسرائیل نے کہا کہ اسے اس واقعے پر افسوس ہے لیکن شہریوں کو وارننگ دی گئی تھی کہ وہ یہ گاؤں چھوڑ کر چلے جائیں۔ وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا کہ اسرائیل ’حزب اللہ کے خلاف بغیر کسی کوتاہی کے کارروائی کرتا رہے گا۔‘

خیال کیا جاتا ہے کہ ایہود اولمرت نے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو بتایا ہے کہ اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائی کے لیے مزید دس سے چودہ دن کی ضرورت ہے۔

دریں اثناء حزب اللہ نے ہفتے کے روز اسرائیل میں راکٹ پھینکنے کا سلسلہ جاری رکھا اور نوّے سے زیادہ راکٹ پھینکے گئے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً تین ہفتے سے جاری لڑائی کے دوران حزب اللہ نے سترہ سو سے زیادہ راکٹ شمالی اسرائیل میں پھینکے ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ کے ایک حملے میں ہفتے کو شام اور لبنان کی سرحد پر مرکزی چوکی کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے اسے پہلی بار بند کرنا پڑا۔ ہزاروں لبنانی اس راستے کو محفوظ مقامات تک پہنچنے کے لیئے استعمال کر چکے ہیں۔

امدادی کارکن ملبے سے زخمیوں کو نکالتے ہوئے

کونڈولیزا رائس
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی کے انیسویں روز امریکی وزیر خارجہ مذاکرات کے لیئے پھر اسرائیل پہنچی ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے وزیر اعظم اور وزرائے خارجہ اور دفاع سے ملاقات میں جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت کی لیکن اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرت نے جنگ بندی کے فوری امکان کو رد کر دیا۔

ایک اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے خبر دی ہے کہ اسرائیل جمعرات تک کسی نہ کسی شکل جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے گا۔ مبصرین کا کہنا کہ امریکہ کے لیئے مشکل ہو گیا ہے کہ وہ فائر بندی سے پہلے مشرق وسطیٰ کے مسئلے کے مستقل حل تک فائر بندی کی مخالفت جاری رکھے۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے ٹی وی پر خطاب میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے شہریوں پر حملے جاری رکھے تو حزب اللہ اسرائیل کے مرکزی شہروں کو نشانہ بنائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کونڈولیزا رائس کی واپسی کا مقصد لبنان پر مزید شرائط عائد کرنا ہے۔

حسن نصراللہ نے کہا کہ ’حزب اللہ کی فوجوں نے اسرائیل کو جنگی فتح نہیں حاصل کرنے دی‘ اور اسی مزاحمت کی وجہ سے اب جنگ بندی کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ سنیچر کو اسرائیل پہنچیں اور انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت کے ساتھ رات کا کھانا کھایا۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق اس ملاقات میں جنگ بندی کا سوال زیر بحث نہیں رہا بلکہ لبنان کے لیئے امداد کے مسئلے پر بات ہوئی۔

اسرائیل کے سرکاری ریڈیو کے مطابق امریکی وزیر خارجہ منگل کو امریکہ واپس جائیں گی تاکہ بدھ کو اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطے میں جنگ بندی کی تجویز پیش کی جا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد