قانا حملہ، اقوامِ عالم کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی برادری نے لبنانی بستی قانا پر اسرائیلی حملے میں چونتیس بچوں سمیت درجنوں افراد کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ اردن نے، جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، قانا پر حملوں کو گھناؤنا جرم قرار دیا ہے۔ اردن کے شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا حملہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور ایک گھناؤنا جرم ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے بھی قانا میں معصوم جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے جبکہ لبنان میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندے گائر پیڈرسن نے اس واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویئر سولانا کا کہنا تھا کہ معصوم لوگوں کی ہلاکت کو کوئی جواز تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ قانا پر حملے کے بعد ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی حکام پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے جبکہ شام کا کہنا ہے کہ قانا پر حملہ حکومتی دہشتگردی ہے۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک کا کہنا تھا کہ قانا پر حملہ بلا جواز تھا اور یہ پہلے سے کہیں زیادہ فوری فائربندی کی ضرورت ثابت کرتا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ نے کہا کہ حملہ افسوسناک تھا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے اسرائیل پر ہمیشہ متناسب کارروائی کے لیئے زور دیا ہے۔ رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پاپائے اعظم پوپ بینڈکٹ نے اسرائیلی حملے کے بعد فائر بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے اور فریقین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ہتھیار رکھ دیں۔ | اسی بارے میں قانا: اسرائیلی حملے میں 37 بچے ہلاک30 July, 2006 | آس پاس امریکی وزیر خارجہ کی اسرائیل واپسی30 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||