مزید لبنانی شہروں پر اسرائیلی حملے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے جنوبی شہر سیدون کے نزدیک ایک فوجی چوکی پر اسرائیلی فضائی حملے میں تین لبنانی فوجی ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ بدھ کی صبح سیدون کے شمال مغرب میں صلبہ کے مقام پر ہوا۔ اس دوران شمال مشرق میں وادی بقا کے شہر بعلبک میں اسرائیلی فوجی کمانڈوز کی کارروائی کے نتیجے میں متعدد شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ اسرائیلی فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نےحزب اللہ کے تین اہم افراد کو بعلبک کے علاقے سے پکڑا ہے اور وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں جبکہ حزب اللہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پکڑے جانے والے تینوں عام شہری ہیں جن میں سے ایک کی عمر ساٹھ سال کے لگ بھگ ہے۔ بدھ کو لبنان کی سرحد سے سو کلو میٹر اندر گاؤں بعلبک میں اسرائیلی حملے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سمیت گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں بین الاقوامی فوج کی تعیناتی تک جنگ بندی نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل جنگی کارروائی سے باز بھی آ جائے اور امن فوج کے آنے کا انتظار کرے تو اس دوران حزب اللہ کو مزید حملے کرنے کا موقع مل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی کمر توڑ دی گئی ہے اور ان کے سات سو اہم ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 750 لبنانی ہلاک ہو چکے ہیں۔ انیس شہریوں سمیت 54 اسرائیلی حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس دوران جنوبی لبنان کے دو سرحدی دیہاتوں ُرب سناتین اور مالوت میں اسرائیلی فوج کے دستوں اور حزب اللہ چھاپہ ماروں کے درمیان شدید جھڑپوں حزب اللہ نے ُرب سناتین میں دو اسرائیلی ٹینک تباہ کرنےکا دعویٰ کیا ہے لیکن اسرائیلی ذرائع نے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ گزشتہ روز ایک قریبی گاؤں ایتا الشعاب میں بھی جھڑپ کے دوران تین اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوگئے تھے۔ ادھر لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو جنگ بندی کے متبادل طریقوں پر تبادلہ خیال کے لیے تین ممالک یعنی اسپین، اردن اور مصر کے وزرائے خارجہ علیحٰدہ علیحٰدہ بیروت پہنچ رہے ہیں۔ دریں اثناء بیروت میں اقوام متحدہ کے ترجمان خالد منصور نے کہا ہے کہ 48 گھنٹوں میں شہری علاقوں پر حملے نہ کرنے کے اسرائیلی اعلان پر جزوی طور پر عمل در آمد ہوا ہے اس کے نتیجہ میں وہ اقوام متحدہ کے امدادی قافلے سے جو رسد جنوبی علاقوں تک پہنچانا چاہ رہے تھے اس میں سے 25 فیصد ہی پہنچ پائی اور دو تہائی رسد اب تک بیروت میں موجود ہے۔ دوسری طرف لبنان میں پیڑول کی قلت بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ جنوبی لبنان میں تو تقریبًا تمام ہی پیٹرول پمپ بند پڑے ہیں۔ بیروت میں بھی پیٹرول پمپ بند ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اگلے 72 گھنٹوں میں اگر صورت حال میں تبدیلی نہیں آئی اور پیٹرول کی رسد نہیں پہنچ سکی تو پورا ملک مفلوج ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف اتوار کو قانا پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے کچھ کی نماز جنازہ بدھ کو ادا کی گئی۔ اس حملےمیں 37 بچوں سمیت 54سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور پوری دنیا میں اس حملے کی مذمت کی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں اسرائیلی فوج بعلبک میں01 August, 2006 | آس پاس بعلبک والوں نے ابھی ہار نہیں مانی01 August, 2006 | آس پاس اسرائیل کی دوہری مشکل01 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی پیش قدمی، شدید مزاحمت01 August, 2006 | آس پاس ’انتہا پسندی کی کمان سے ہوشیار‘02 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ کارکن پکڑنے کا دعویٰ02 August, 2006 | آس پاس لبنان: امدادی کاموں میں تعطل 02 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||