BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی پیش قدمی، شدید مزاحمت
اسرائیلی فوجی
جنوبی لبنان میں سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے
اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں تیز تر پیش قدمی کر رہی ہیں اور اس دوران انہیں حزب اللہ کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

اسرائیل کی ترجمان نے کہا کہ تازہ لڑائی میں طیبی اور ادیسا گاؤں میں حزب اللہ کے بیس جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ عربی ٹی وی چینل العربیہ نے خبر دی ہے کہ جنگ میں تین اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔


اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق فوجیں دریائے لیطانی کی جانب بڑھ رہی ہیں تاہم اسرائیلی فوجی ذرائع نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ دریائے لیطانی لبنان کی سرحد کے اندر بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

دو ہفتے سے زیادہ عرصے سے جاری لڑائی میں اب تک چھ سو سترہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ لبنانی وزیرِ صحت کے مطابق سات سو پچاس لبنانی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔ اس کے برعکس اب تک کی لڑائی میں اٹھارہ شہریوں سمیت اکاون اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر ِقانون حائم رامون کے مطابق اب تک کی لڑائی میں حزب اللہ کے دو ہزار کارکنوں میں سے تین سو مارے جا چکے ہیں جبکہ حزب اللہ نے صرف تنتالیس کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج لبنانی علاقے میں کئی کلومیٹر اندر موجود ہے اور متعدد مقامات پر کارروائی کر رہی ہے۔ اسرائیلی افواج نے تازہ پیش قدمی کابینہ کے جنوبی لبنان میں زمینی حملوں کا دائرہ وسیع کرنے کے فیصلے کے بعد کی ہے۔ سینیئر اسرائیلی سیاسی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بند کمرے میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں مکمل اتفاقِ رائے سے کیا گیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فوجی لبنان کی سرحد میں تیس کلومیٹر اندر اس وقت تک رہیں گے جب تک بین الاقوامی فوج وہاں تعینات نہیں کردی جاتی جبکہ رائٹرز نے سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی کابینہ نے جنوبی لبنان کے چھ سے سات کلومیٹر اندر تک پیش قدمی کی منظوری دی ہے۔

اسرائیلی کابینہ کے وزیر بنیامن بن الائزر کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں امن فوج کی تعیناتی ہونی ہے وہاں سے حزب اللہ کا عمل دخل ختم کرنے میں مزید دس سے پندرہ دن درکار ہیں۔

یروشلم میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو پیچھے دھکیل کر ایک ’سکیورٹی زون‘ قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی ریڈیو نے یہ بھی خبر دی ہے کہ حکومت مزید ریزروفوجیوں کو بلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اسرائیلی فوجی لبنانی علاقے میں پیش قدمی کے دوران

ادھر اسرائیلی طیاروں نے لبنان میں مزید حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ وادی بقا کو شام سے ملانے والی ایک سڑک کو بھی تباہ کیا گیا ہے تاکہ شام سے مزید اسلحہ سمگلنگ کو روکا جا سکے۔

ادھر برسلز میں یورپی یونین ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے فوری جنگ بند ی کا مطالبہ کیا ہے ۔یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جس مسودے پر اتفاق کیا گیا اس میں اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ وہ لبنان میں فوری جنگ بندی کرے۔

اسرائیلی صدر ایہود اولمرت فوری جنگ بندی کا مطالبہ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اپنی جارحانہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک اس کی سلامتی کو درپیش خطرہ موجود ہے۔ ایہود اولمرت نے بارہ جولائی کو حزب اللہ کے ہاتھوں پکڑے جانے والے دو اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا

ادھر لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے بھی اپنے تازہ ترین حملوں میں مشرقی لبنان کو نشانہ بنایا ہے۔ حکام کے مطابق اسرائیل کے جنگی طیاروں نے شمال مشرقی لبنان کو شام سے ملانے والی سڑک کو نشانہ بنایا ہے۔

منگل کی صبح کو ہونے والے ان حملوں میں لبنان اور شام کے درمیان قاحمس کی سڑک کو نشانہ بنایا گیا جبکہ شام کی سرحد سے نو میل کے فاصلے حزب اللہ کا گڑھ سمجھے جانے والےگاؤں حرمل پر متعدد حملے کیئے گئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں اور حزب اللہ کے چھاپہ ماروں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

فضائی حملوں کے معطلی امدادی ایجنسیوں کے لیئے مددگار ثابت نہیں ہوئی

ادھر قانا کا گاؤں سینتیس بچوں سمیت چون افراد کے سوگ میں ہے۔ ریڈ کراس کے ایک رضاکار کا کہنا ہے کہ’مرنے والے کسی بھی فرد کے جسم پر بم کے ٹکڑوں کے زخم نہیں تھے۔ سب لوگ ملبہ گرنے سے دم گھٹ کر مرے۔ اگر میں یہاں جلد پہنچ جاتا تو شاید کچھ لوگوں کو زندہ نکالا جا سکتا۔

دریں اثناء شام کے صدر بشر الاسد نے بھی اپنے ملک کی فوج سے کہا ہے کہ وہ خطے کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر اپنی تیاری مکمل رکھیں اور مستعد رہیں۔شام کے صدر نے یہ پیغام فوج کو شام کی یوم دفاع کے موقع پر بھیجا ہے۔ اس تحریری پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ فوجی اپنی تربیت میں اضافہ کر دیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اڑتالیس گھنٹوں تک فضائی حملے روکنے کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان تک امدادی ایجنسیوں کی آزادانہ رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ امدادی ایجنسیوں کے مطابق انہیں اسرائیل کو امدادی قافلے کی روانگی سے تین دن قبل محفوظ راستے کے بارے میں درخواست دینا پڑتی ہے اس لیئے حملوں کی معطلی ان کے لیئے فائدہ مند نہیں۔

بیروتبیروت سے طائر تک
وسعت اللہ نے بیروت سے طائر تک کیا دیکھا
قانا’ویرانی ہی ویرانی‘
وویک نے حملے سے اگلے دن قانا میں کیا دیکھا
امریکہ پر دباؤ
سفارتی کوششیں کیا رنگ لائیں گی؟
بیروتپناہ گزینوں کا شہر
بیروت کےسکولوں میں بے گھر خاندانوں کا حال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد