BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیو یارک: اقوام متحدہ کے باہر مظاہرہ

اس مظاہرے کا انتظام امریکہ کی کئی عرب، فلسطینی، لبنانی اور جنگ مخالف تنظیموں نے مل کر کیا تھا
اس مظاہرے کا انتظام امریکہ کی کئی عرب، فلسطینی، لبنانی اور جنگ مخالف تنظیموں نے مل کر کیا تھا
دس سالہ دانیا حسینی ان درجنوں لوگوں میں شامل تھیں جو اقوام متحدہ کے سامنے قانا پر اسرائیلی حملے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک بینر اٹھا رکھا تھا جس پر درج تھا ’امریکہ، ہمارا مطالبہ ہے کہ اسرائیل کو وسیع تباہی کے ہتھیار فراہم کرنے بند کرو۔‘

اس مظاہرے میں شامل ہونے کے لیئے خود انہوں نے اپنی بہن سے درخواست کی تھی۔

’میں نےخبروں پر اور اخبارات میں بہت کچھ دیکھا ہے۔ اور جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ مجھے اچھا نہیں لگا۔ بہت سے بچے مر رہے ہیں، بہت سے لوگ مر رہے ہیں، اور ہمیں جنگ بند کرانے کے لیئے یہاں ہونا ضروری ہے۔‘

اس مظاہرے کا انتظام امریکہ کی کئی عرب، فلسطینی، لبنانی اور جنگ مخالف تنظیموں نے مل کر کیا تھا۔

مظاہرین میں شامل ایک سفید فام امریکی اور قانون کے طالب علم گیرٹ رائٹ کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی حکومت کے رویے پر شدید غصہ ہے کیونکہ امریکہ کسی بھی وقت اسرائیل کو روک سکتا ہے۔ وہ امریکی ذرائع ابلاغ سے بھی خوش نہیں تھے

مظاہرین میں شامل ایک سفید فام امریکی اور قانون کے طالب علم گیرٹ رائٹ کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی حکومت کے رویے پر شدید غصہ ہے کیونکہ امریکہ کسی بھی وقت اسرائیل کو روک سکتا ہے۔ وہ امریکی ذرائع ابلاغ سے بھی خوش نہیں تھے۔

’میرا خیال ہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ عموماً مشرق وسطٰی کے واقعات کی تاریخ اور حالیہ واقعات کی درست تفصیل سے عوام کو آگاہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ، اسرائیل کو سب سے زیادہ ہتھیار فراہم کرتا ہے اور ہر سال اربوں ڈالر کے ہتھیار، ٹیکنالوجی اور امداد اسے مہیا کرتا ہے۔ اس لیے اسرائیل اکثر مشرق وسطٰی میں امریکی مفاد کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ اور میرا خیال ہے اسی وجہ سے مشرق وسطٰی میں کیا ہورہا ہے اس کے بارے میں اکثر امریکی ابہام کا شکار ہیں۔‘

ایک ایسا شخص بھی نعرے لگانے والوں کے ساتھ تھا جو لبنان کی خانہ جنگی کو قریب سے دیکھ چکا ہے۔ باسم نصار اسی خانہ جنگی سے بچنے کے لیے آٹھ سال کی عمر میں امریکہ آ گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں لوگوں کے ذہن میں اسرائیل کی مخالفت کے بارے میں کئی غلط خیالات ہیں۔

’بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسرائیل کا مخالف ہونا، یہودی نسل کے مخالف ہونے کے مترادف ہے جو کہ بالکل غلط بات ہے۔ یہاں کوئی بھی یہودیوں کے خلاف نہیں، بلکہ یہاں وہ لوگ ہیں جو جنگ بندی چاہتے ہیں اور فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل چاہتے ہیں۔‘

اگرچہ منتظم کے طور پر کوئی ایک تنظیم سامنے نہیں تھی لیکن عرب نژاد امریکیوں کی تنظیم نیشنل کونسل آف عرب امیریکنز کے عیسٰی میکل کے مطابق یہ مظاہرہ ایک بڑے سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔

’ہم ایک بڑی تحریک کے لیئے کوشش کر رہے ہیں جس میں اسرائیل کے خلاف پابندیاں لگائی جا سکیں۔ کیونکہ اب یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ اسرائیل، فلسطینیوں یا اپنے پڑوسیوں کے خلاف اس وقت تک جارحیت بند نہیں کرے گا جب تک اس پر صحیع معنوں میں عوامی دباؤ نہ پڑے اور اسے جارحیت کی ایسی قیمت نہ ادا کرنی پڑے جو اسے اپنے طور طریقے پر امن طریقے سے تبدیل کرنے پر مجبور کر دے۔‘

منتظمین کے مطابق اس مظاہرے میں شامل ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ اس لیئے نہیں تھی کہ انہوں نے اتوار کو لوگوں کو ای میل بھیجی تھی اور ابھی پیر کو لوگ اپنے دفاتر سے فارغ نہیں ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے سامنے آدھے گھنٹے نعرے لگانے کے بعد جلوس کی شکل میں مظاہرین نے اسرائیلی مشن کا رخ کیا۔

دوسری طرف اس نعرے بازی سے ذرا دیر پہلے اقوام متحدہ کے اندر اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے درمیان سلامتی کونسل میں گرما گرم بحث ہوئی جس میں لبنانی سفیر نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت خطّے میں اس کے خلاف نفرت میں اضافہ کرے گی اور اسرائیلی سفیر نے الزام لگایا کہ اسرائیل سے نفرت کے لیئے لبنانی بچوں کو قانا کی ضرورت نہیں، یہ نفرت انہیں سکولوں میں پڑھائی اور مساجد میں سکھائی جاتی ہے۔

منگل کو امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس بھی سلامتی کونسل پہنچنے والی ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ اگلا ایک ہفتہ نیو یارک میں گزارنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد