قانا: ’اب یہاں کوئی نہیں۔۔۔‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے جنوبی شہر طائر کے مضافاتی گاؤں قانا میں اسرائیلی بمباری میں ساٹھ افراد کی ہلاکت کے ایک دن بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیئے بی بی سی کے صحافی وویک راج دوبارہ قانا پہنچے۔ ان کی رپورٹ حسب ذیل ہے: کل جب میں یہاں تھا تو یہاں ریسکیو کا کام چل رہا تھا اور لاشیں نکالی جا رہی تھیں لیکن آج صبح جب میں یہاں پہنچا تو لوگ یہاں سے نکل چکے تھے اور اب گاؤں پورا خالی ہے۔ ریسکیو کا کام ختم ہو چکا ہے اور اب یہاں کوئی رہائشی نہیں۔ اب یہاں بہت سے صحافی پہنچ چکے ہیں جو تباہ شدہ عمارتوں تصویریں لینے میں مصروف ہیں۔ قانا اس پوری جنگ کی ’علامت‘ کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ اب اس گاؤں میں کوئی نہیں۔ مجھے بھی صرف ایک ایسا نوجوان ملا جس کا آدھا خاندان اس بمباری میں مارا گیا اور جو بچ گئے وہ یہاں سے جا چکے ہیں۔ اس نوجوان کا کہنا تھا کہ’لڑائی جاری رہے، اسرائیل سے بدلہ لیا جائے اور اسے اُس مشکل میں ڈالا جائے جس سے لبنانی اس وقت گزر رہے ہیں‘۔ مجھے صور سے قانا آتے ہوئے کسی قسم کی بمباری کا سامنا نہیں کرنا پڑا گو کہ وہ راستہ بہت خطرناک مانا جاتا ہے اور اس راستے پر جا بجا بم گرنے سے جلی ہوئی گاڑیاں اور سڑکوں پر پڑنے والے گڑھے عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ صور اور طائر میں بھی کسی قسم کے دھماکے سننے کو نہیں ملے ورنہ تو ہماری صبح ہی دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہوتی تھی۔ تاہم یہاں قانا آ کر کافی شیلنگ کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ ہمارے شمال مشرق میں توپخانے سے گولہ باری ہو رہی ہے اور فضا میں ایف سولہ طیارے بھی موجود ہیں لیکن لوگوں میں آج وہ ڈر موجود نہیں جو پہلے تھا کہ نہ جانے کہاں سے بم آ کرگرے۔ یہاں خبر پانا بہت مشکل ہے۔میں سامنے پہاڑوں سے دھواں اٹھتے دیکھ رہا ہوں اور اسرائیل نے کہا بھی تھا کہ اگر وہ کوئی اصل ٹارگٹ دیکھیں گے تو بمباری کریں گے تو یہاں پوری طرح سے بمباری سے نجات نہیں ملی ہے۔ تاہم لوگ اب بھی علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہی موقع ہے کسی محفوظ مقام پر پہنچنے کا۔ |
اسی بارے میں ’اسرائیل کو فوری جنگ بندی قبول نہیں‘31 July, 2006 | آس پاس سفارتی کوششیں کیا رنگ لائیں گی؟ 31 July, 2006 | آس پاس سانحہ قانا: شدید عالمی احتجاج 31 July, 2006 | آس پاس حملے پر تشویش، جنگ بندی نہیں 31 July, 2006 | آس پاس مشرقِ وسطٰی میں تباہی، کیمرے کی آنکھ سے30 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||