’فوری جنگ بندی قبول نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیرِ دفاع امیر پیریز نےمشرقِ وسطٰی میں فوری جنگ بندی کے امکان کو رد کر دیا ہے جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے میں جنگ بندی کا امکان ہے۔ اسرائیلی پارلیمان سے خطاب میں اسرائیلی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ’حالانکہ میں ایک امن پسند آدمی ہوں مگر میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ ہم فوری جنگ بندی قبول نہیں کریں گے‘۔ ادھر اسرائیل کی جانب سے لبنان پر اپنے فضائی حملے اڑتالیس گھنٹے کے لیئے روکنے کے اعلان کے باوجود اسرائیلی حکام کے مطابق جنگی طیاروں نے پیر کو بھی جنوبی لبنان میں بمباری کی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں حزب اللہ کے خلاف برسرِ پیکار زمینی افواج کی مدد کے لیئے کی گئی ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اس وقت جنگ بندی سے’دہشتگردوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے اور ان کی واپسی کا خطرہ بڑھ جائے گا‘۔ امیر پیریز نے پارلیمان کو بتایا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی زمینی کارروائیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ امیر پیریز نے فضائی حملے روکنے کے اعلان کو’انسانی ہمدردی‘ قرار دیا۔ فضائی حملوں کی معطلی کا اعلان لبنان کے علاقے قانا پر اتوار کو اسرائیلی بمباری کے بعد امریکی وزیر خارجہ اور اسرائیلی اہلکاروں میں بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔قانا پر بمباری میں تقریباً ساٹھ افراد ہلاک ہوئے جن میں سینتیس بچے شامل تھے۔ ادھر واشنگٹن روانگی سے قبل یروشلم میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ’میرے خیال میں فوری جنگ بندی اور مسئلے کے دیرپا حل کے معاہدے پر ممکنہ اتفاق رائے ممکن ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ رواں ہفتے میں ہی ہو جائے گا‘۔ قانا حملے سے قبل اسرائیل اور امریکہ دونوں ہی فوری جنگ بندی کو قبل از وقت قرار دیتے رہے تھے تاہم اس حملے میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی کے لیئے عالمی دباؤ میں اضافہ ہو گیا تھا۔ دریں اثناء اسرائیلی ریڈیو نے ایک اہم اسرائیلی افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کو یقین ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی اسی صورت میں ممکن ہے جب ایک بین الاقوامی فوج جنوبی لبنان میں تعینات کی جائے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل اپنے فضائی حملے قانا کے واقعے میں تفتیش کرنے کے لیئے روک رہا ہے۔اسرائیلی اہلکاروں نے اس اعلان کی تصدیق کی اور کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ اس پر راضی ہیں لیکن یہ صرف 48 گھنٹوں کی مدت کے لیئے ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ایڈم ایریلی کے مطابق اسرائیل اقوام متحدہ سے بات کر کے لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیئے چوبیس گھنٹوں کے لیئے محفوظ راستہ بھی دے گا۔
اسرائیلی حملوں کی معطلی پر لبنان نے وزیرِ معیشت سمیع حداد کا کہنا ہے کہ’اسرائیلی حملوں کی معطلی جنگ بندی نہیں کیونکہ جنگ بندی ان مظالم کی مکمل اور غیر مشروط روک تھام کا نام ہے۔ چنانچہ ہمیں اسرائیل اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے کچھ نہیں ملا ہے‘۔ ادھر ایسوسی ایٹڈ پریس نے لبنانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب مشرقی لبنان میں شام کی سرحد سے تین کلومیٹر دور ینتہ کے مقام پر دو حملے کیئے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی فضائی حملوں کی اڑتالیس گھنٹے تک معطلی کے فیصلے سے قبل کی گئی۔ فوج کے ترجمان کے مطابق حملوں کی معطلی رات دو بجے سے نافذالعمل ہوئی جبکہ یہ حملے مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے کیئے گئے تھے۔ قانا پر حملے کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے اور اتوار کو مشتعل لوگوں نے بیروت میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مظاہرہ بھی کیا تھا۔ اس صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بھی ہوا جو ایک اعلامیے پر اتفاق رائے پرختم ہوا جس میں قانا کے واقعے پراظہار افسوس تو کیا گیا لیکن نہ تو اسرائیلی جنگی کاراوائیوں کی کھل کر مذمت کی گئی اور نہ ہی فوری جنگ بندی کا مطالبہ۔ لبنان کے وزیرِاعظم نے بھی قانا پر بمباری کو ایک جنگی جرم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت مذاکرات اس وقت تک نہیں کرے گی جب تک اسرائیل لبنان پر حملے نہیں روکتا۔ ان کے اس بیان کی وجہ سے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو اپنے بیروت کے دورے کو منسوخ کرنا پڑا۔ لبنان کے وزیر صحت نے بتایا ہے کہ انیس روز سے جاری اسرائیلی حملوں میں 750 لبنانی ہلاک ہوئے ہیں جن میں بیشتر عام شہری تھے۔اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں میں 51 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں 18 عام شہری شامل تھے۔ |
اسی بارے میں قانا اور سلامتی کونسل کا اجلاس30 July, 2006 | آس پاس قانا حملہ، اقوامِ عالم کی مذمت30 July, 2006 | آس پاس براہ راست: قانا سے آنکھوں دیکھا حال30 July, 2006 | آس پاس قانا: ہلاکتوں کی تعداد 60 سے زیادہ30 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||