’48 گھنٹوں کے لیئے فضائی حملے بند‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ اسرائیل لبنان پر اپنے فضائی حملے اڑتالیس گھنٹے کے لیئے روک رہا ہے۔ یہ اعلان لبنان کے علاقے قانا پر اتوار کو اسرائیلی بمباری کے بعد امریکی وزیر خارجہ اور اسرائیلی اہلکاروں میں بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔ قانا پر بمباری میں تقریباً ساٹھ افراد ہلاک ہوئے جن میں سینتیس بچے شامل تھے۔ یروشلم میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اس ہفتے کے دوران اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے لیئے قرار داد اور بین الاقوامی فورس کی لبنان میں تعیناتی کی کوشش کریں گی۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل اپنے فضائی حملے قانا کے واقعے میں تفتیش کرنے کے لیئے روک رہا ہے۔اسرائیلی اہلکاروں نے اس اعلان کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ اس پر راضی ہیں لیکن یہ صرف 48 گھنٹوں کی مدت کے لیئے ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ایڈم ایریلی کے مطابق اسرائیل اقوام متحدہ سے بات کر کے لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیئے چوبیس گھنٹوں کے لیئے ’سیف پیسیج‘ دے گا۔
ادھر ایسوسی ایٹڈ پریس نے لبنانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب مشرقی لبنان میں شام کی سرحد سے تین کلومیٹر دور ینتہ کے مقام پر دو حملے کیئے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی فضائی حملوں کی اڑتالیس گھنٹے تک معطلی کے فیصلے سے قبل کی گئی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق حملوں کی معطلی رات دو بجے سے نافذالعمل ہوئی جبکہ یہ حملے مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے کیئے گئے تھے۔ قانا پر حملے کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے اور اتوار کو مشتعل لوگوں نے بیروت میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔ اس صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بھی ہوا جو ایک اعلامیے پر اتفاق رائے پرختم ہوا جس میں قانا کے واقعے پراظہار افسوس تو کیا گیا لیکن نہ تو اسرائیلی جنگی کاراوائیوں کی کھل کر مذمت کی گئی اور نہ ہی فوری جنگ بندی کا مطالبہ۔ لبنان کے وزیرِاعظم نے بھی قانا پر بمباری کو ایک جنگی جرم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت مذاکرات اس وقت تک نہیں کرے گی جب تک اسرائیل لبنان پر حملے نہیں روکتا۔ ان کے اس بیان کی وجہ سے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو اپنے بیروت کے دورے کو منسوخ کرنا پڑا ہے۔ لبنان کے وزیر صحت نے بتایا ہے کہ انیس روز سے جاری اسرائیلی حملوں میں 750 لبنانی ہلاک ہوئے ہیں جن میں بیشتر عام شہری تھے۔اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں میں 51 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں 18 عام شہری شامل تھے۔ |
اسی بارے میں قانا اور سلامتی کونسل کا اجلاس30 July, 2006 | آس پاس قانا حملہ، اقوامِ عالم کی مذمت30 July, 2006 | آس پاس براہ راست: قانا سے آنکھوں دیکھا حال30 July, 2006 | آس پاس قانا: ہلاکتوں کی تعداد 60 سے زیادہ30 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||