دو ہفتے بعد کھلی فضا میں سانس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب میں بیروت سے طائر پہنچا تو فضا میں ایف سولہ طیارے تو نہیں البتہ بغیر پائلٹ والے طیارے ( ڈرون) نظر آ رہے تھے۔عام حالات میں بیروت سے طائر تک کا سفر ایک گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے لیکن میں چارگھنٹے کی مسافت کے بعد طائر پہنچا۔ بیروت سے طائر کی تمام سڑکوں اور پلوں کو اسرائیلیوں نے بمباری کر کے تباہ کر دیا ہے لوگ کچے پہاڑی راستوں سے سفر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ ہر طرف ٹریفک پھنسی ہوئی نظر آتی ہے۔ لوگ جنوبی لبنان سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن میں نے کچھ لوگ بیروت کی جانب بھی آتے دیکھے جب بیروت کی جانب آنے والوں سے کہ لوگ تو بیروت سے بھاگ رہے ہیں اور آپ واپس بیروت کیوں جا رہے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ اڑتالیس گھنٹے تک بمباری روکے جانےسے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے گھروں کے تباہی کو دیکھ کر واپس لوٹ آئیں گے۔ سیدون شہر میں نےدیکھا کہ سارا شہر باہر نکلا ہوا ہے جبکہ آدھا کاروبار بھی بند ہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا کوئی میلہ لگا ہوا تو ان کا جواب تھا کہ دو ہفتوں سے وہ اپنے گھروں میں مقید تھے اور اب یہ اڑتالیس گھنٹے ملے ہیں تو وہ کھلی فضا میں سانس لینے کے لیے شہر سے باہر آئے ہیں۔ کھانے پینے کی دوکانوں سے زیادہ لمبی لائنیں پیٹرول پمپوں پر نظر آ رہی ہیں کیونکہ ہر کوئی شہر سے نکلنا چاہتا ہے اور ایسا پیٹرول کے بغیر ممکن نظر نہیں۔ لوگ مایوسی کے عالم میں ایک دوسرے سے دست و گریبان بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو ڈر ہے کہ اڑتالیس گھنٹے کے خاتمے پر اس علاقے میں بہت زبردست بمباری ہونے والی ہے کیونکہ اسرائیل یہ کہہ سکے گا کہ کہ اڑتالیس گھنٹوں میں لوگ علاقے سے نکل چکے ہیں اور وہ صرف حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں لبنان: نشانے پر حزب اللہ یا عام شہری؟28 July, 2006 | آس پاس امریکہ : انسانی حقوق کی پامالی29 July, 2006 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||