بعلبک والوں نے ابھی ہار نہیں مانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ اسرائیل نے اڑتالیس گھنٹوں کے لیئے لبنان پر فضائی حملے روکنے کا اعلان کیا ہے لیکن بعلبک کی فضاؤں میں اسرائیل کے جاسوسی طیاروں کی ’بھنبھناہٹ‘ پیر کو بھی سنائی دیتی رہی۔ بعلبک جہاں شاید اٹلی سے باہر رومن تہذیب کی بہترین باقیات موجود ہیں حزب اللہ کا ایک مضبوط گڑھ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی شمالی سرحد سے ساٹھ میل دور واقع یہ علاقہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران اسرائیلی بمباری کا مسلسل نشانہ بنتا رہا ہے۔ بعلبک میں داخل ہوں تو جا بجا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ، ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای اور ایران کے اسلامی انقلاب کے خالق آیت اللہ خمینی کے پوسٹر نظر آتے ہیں۔ انہیں پوسٹروں کے سائے میں میں آپ کو بمباری کا نشانہ بننے والے پٹرول پمپ اور کارخانے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دس دس میٹر چوڑے گڑھے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہاں اسرائیل نے لیزر گائیڈڈ بم استعمال کیئے ہیں لیکن آج بعلبک والوں اور ان کے ہم جیسے مہمانوں کے دماغ پر جاسوسی طیاروں کی جانب سے داغے جانے والے چھوٹے مگر مہلک میزائلوں کا خوف طاری ہے۔
شیخ حبیب کے علاقے کے رہائشی فیصل صہیلی اور ان کا خاندان اس لڑائی کے تیسرے دن ہونے والی اسرائیل بمباری میں بال بال بچا۔اس بمباری میں ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ لبنانی فوج کے اس سابق افسر کا کہنا ہے کہ’جب جہازوں نے علاقے پر بمباری شروع کی تو ہم کھیتوں میں نکل آئے جو کہ محفوظ جگہ تھی۔ چند لمحے بعد ہمارا گھر بھی تباہ ہوگیا۔ اس علاقے کے زیادہ ترگھر خالی تھے اور ان کے رہائشی بعلبک چھوڑ کر نزدیکی دیہات میں جا چکے تھے تاہم پھر بھی تین لوگ اس بمباری میں ہلاک ہوئے‘۔ اب تک بعلبک میں اسرائیلی بمباری سے ڈھائی سو سے زائد عمارتیں نشانہ بن چکی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا بظاہر حزب اللہ سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ تاہم اس تعداد کی تصدیق تاحال بہت مشکل ہے کیونکہ کچھ علاقے اب بھی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں۔ فیصل صہیلی کا کہنا ہے کہ’ گزشتہ روز میں نے اپنے تباہ شدہ گھر سے بچا کچھا سازو سامان نکالنے کے بارے میں سوچا لیکن اوپر اڑتے ایک جاسوسی طیارے نے میری کار پر میزائل داغ دیا۔ خوش قسمتی سے اس کا نشانہ چُوک گیا اور میں پھر اس کے واپس جانے تک چھپا رہا۔ جیسے ہی وہ گیا میں جلدی سے اپنی کار میں سوار ہو کر یہاں آ گیا‘۔ علی طاہر کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال یہ یقین نہیں آتا کہ وہ زندہ ہیں اور ان کے گھر کے سامنے کنکریٹ اور ٹوٹی پھوٹی دھاتوں کے ایک ڈھیر کو دیکھ کر مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگا۔ یہ تباہ شدہ عمارت ایک ویلفیئر پوائنٹ اور سکول کی تھی اور یہ عین اس وقت بمباری کا نشانہ بنی جب علی اپنےگھر کے باہر کھڑے تھے۔ ان کی گاڑی اس دھماکے سے متاثر ہوئی اور وہ گاڑی کی اوٹ میں ہونے کی وجہ سے بالکل محفوظ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ میں شاید صرف اس لئیے زندہ ہوں کہ میرا وقت ابھی نہیں آیا‘۔
علی نے مجھے بم کا ایک ایسا ٹکڑا دکھایا جو دس انچ لمبا تھا اور اس کا وزن قریباً تین کلو تھا۔ ان کے مطابق’ یہ مجھے میرے بیٹے کے بستر سے ملا۔ خدا کا شکر ہے کہ میں اسے حملے کے پہلے دن ہی یہاں سے بجھوا چکا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم میں اگلے حملے میں بچوں گا یا نہیں‘۔علی کی آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کہ زیادہ تر راتیں نیند ان کی آنکھوں سے دور ہی رہی ہے۔ ہمارے سامنے دو بڑے بڑے گڑھے تھے جہاں کچھ عرصہ قبل دو عمارتیں ہوا کرتی تھیں جن میں حزب اللہ کے کارکن رہا کرتے تھے۔ بمباری کا نشانہ بننے والی ان عمارتوں تک ہماری رہنمائی کرنے والے حکمت شریف کا کہنا ہے کہ’یہاں کچھ محفوظ نہیں اور ہمیں اب جانا ہی ہوگا‘۔ جب حکمت جیسے لوگ جانے کا فیصلہ کر لیں تو یہ کوئی عام بات نہیں۔ |
اسی بارے میں ’اسرائیلی فوج دریائے لیتانی تک‘ 01 August, 2006 | آس پاس لبنان شام سڑک پر فضائی حملے01 August, 2006 | آس پاس ’قانا پر فضائی حملہ جنگی جرم ہے‘01 August, 2006 | آس پاس جنگ بندی نہیں ہوگی: اولمرٹ31 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||