اسرائیل کی دوہری مشکل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کے روز قانا میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی ہلاکتوں نے اسرائیل کے لیئے دوہری مشکل پیدا کر دی ہے کہ کیا اسرائیل حزب اللہ کو تباہ کرنے کے لیے شروع کی جانی والی کارروائی کو جاری رکھے یا اس کے اختتام کا اعلان کرے۔ اسرائیل سے ملے جلے اشارے مل رہے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس کی اسرائیل میں موجودگی میں اسرائیل نے اڑتالیس گھنٹے تک بمباری بند کرنے کا اعلان کیا تاکہ قانا میں نہتے شہریوں پر حملے کی تحقیقات میں مدد مل سکے اور علاقے میں پھنسے ہوئے مزید لوگ وہاں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف جا سکیں۔ تاہم چند گھنٹوں بعد ہی اس نے بمباری کو یہ کہہ کر شروع کر دی کہ زمینی فوج کو فضائی مدد کی ضرورت تھی۔ امریکی وزیر کانڈولیزا رائس نے اسرائیلی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد اعتماد انداز میں اعلان کیا تھا کہ ’پائیدار جنگ بندی‘ ممکن ہے۔ ادھر اسرائیل کے وزیر دفاع عمیر پیریز نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوری جنگ بندی کا کوئی امکان نہیں بلکہ اسرائیل اس فوجی آپریشن کو پھیلا سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر فوری جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا تو شدت پسند دوبارہ سر اٹھا لیں گے اور چند ماہ بعد حالات پھر اسی مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں آپریشن شروع کرنے کے وقت تھے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کے ان الفاظ کے باوجود اسرائیل میں تشویش پائی جاتی ہے کہ تین ہفتے کی مسلسل بمباری اور زمینی کارروائیوں کے باوجود حزب اللہ کی کمر نہیں توڑی جا سکی ہے اور اس کی جنگ کرنے کی صلاحیت اپنی جگہ قائم ہے۔ اسرائیلیوں کی اکثریت کو یہ امید نہیں تھی کہ لبنان میں اسرائیل کا آپریشن اتنے لمبے عرصے تک جاری رہے گا اور وہ یقیناً اتنا زیادہ اموات کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک ایسی دہشت گرد تنظیم کے خلاف معرکہ آرا ہیں جو ایران کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے اسرائیل کی تباہی کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ بہت سارے اسرائیلیوں کے لیے یہ ان کی بقا کی جنگ ہے اور وہ پریشان ہیں کہ دنیا ان کے تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتی اور حزب اللہ کی طرف سے اسرائیلی شہری آبادیوں پر حملوں میں مرنے والوں کو کیوں انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس تنازعے میں ابتک پچاس اسرائیلی شہری اور سات سو پچاس لبنانی ہلاک ہو گئے ہیں۔ کئی اسرائیلی مبصر مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں اور کچھ کا خیال ہے کہ اسرائیل کے دیرینہ حریف شام کو مذاکرات کی میز پر لانا ضروری ہے۔ ایک نقطے پر سارے اسرائیلی متفق ہیں کہ وہ حزب اللہ کو دوبارہ میزائیلوں کے ساتھ واپس اپنی سرحد پر نہیں دیکھنا چاہتے۔ اسرائیل کے سامنے سب بڑا سوال یہ ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں حالات کو اس وقت تک کیسے کنٹرول میں رکھے جب تک عالمی امن فوج علاقےمیں پہنچ نہیں جاتی۔ اسرائیل اپنے آپ کو مشکل صورتحال میں پھنسا ہوا پاتا ہے اگر وہ اس صورتحال میں اپنی فوج کو واپس بلائے تو حزب اللہ فوجی خلاء کو پر کر سکتا ہے اور پھر انہیں علاقوں پر دوبارہ قابض ہو سکتا ہے جہاں سے اسے نکالنے کے لیے اسرائیل نے آپریشن شروع کیا تھا۔ اگر اسرائیل اپنی جگہ پر موجود رہتا ہے اور تو اسے قابض فوج تصور کیا جائے گا اور اسے عربوں کی نفرت کا نشانہ بننا پڑے گا۔ اس ہفتے عالمی توجہ کا مرکز نیویارک ہو گا جہاں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل لبنان کے دیر پا حل کے لیے تجاویز کی منظوری دے گی۔ نیویارک میں اس بات کا بھی فیصلہ ہونا ہے کہ امن فوج کے کیا اختیارات ہوں گے اور وہ کن حالات میں امن قائم رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال کر سکے گی ۔ اقوام متحدہ کی ایک فورس اس وقت بھی لبنان میں موجود ہے لیکن وہ بلکل غیر موثر ہے۔ نئی امن فوج کے لیے تمام فریقین کی رضامندگی کے علاوہ اس کے’دانت‘ہونا بھی ضروری ہیں۔ |
اسی بارے میں لبنان شام سڑک پر فضائی حملے01 August, 2006 | آس پاس نیو یارک: اقوام متحدہ کے باہر مظاہرہ01 August, 2006 | آس پاس سانحہ قانا: شدید عالمی احتجاج 31 July, 2006 | آس پاس جنگ بندی کا اس ہفتے امکان: رائس31 July, 2006 | آس پاس ’48 گھنٹوں کے لیئے فضائی حملے بند‘30 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||