BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 August, 2006, 06:28 GMT 11:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انتہا پسندی کی کمان سے ہوشیار‘
ٹونی بلئیر نے شام اور ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر نے خبردار کیا ہے کہ ’انتہا پسندی کی کمان ‘ پورے مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ انہوں نے خارجہ پالسیی میں انتہا پسندی کے بارے میں سوچنے پر بھی زور دیا۔

لاس اینجلنس میں ورلڈ افیئرز کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام اور ایران کو دہشت گری کی پشت پناہی سے باز آجانا چاہیے یا پھر ان کے خلاف مقابلہ کیا جائے گا۔

ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی کا دائرہ پورے مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور اس خطے کے باہر ممالک بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام اور ایران نے القاعدہ کو سرحد پار گھس کر کارروائیاں کرنے کی اجازت دی جبکہ ایران نے شیعہ بنیاد پرستوں کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق میں دہشت گردی کا مقصد صاف طورپر انسانی قتل عام، فرقہ وارانہ نفرت کا پھیلاؤ اور بعد ازاں ’خانہ جنگی‘ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم واضح طور پر شام اور ایران کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ان کے پاس انتخاب موجود ہے یا تو وہ عالمی کمیونٹی میں آئیں اور ہماری طرح مقررہ قوانین کی پابندی کریں یا پھر مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایران اور شام کی دہشت گردی کی حمایت، عراق میں جمہوری عمل کو ناکام بنانے کی کوششیں بلا جواز، خطرناک اور غلط ہیں۔ اگر انہوں نے ایسی کارروائیاں جاری رکھیں تو انہیں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔

لبنان اور اسرائیل تنازعے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس لڑائی کو شروع کرنے کا مقصد بڑا واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لڑائی کا مقصد خطے میں عدم استحکام، قتل عام اور اسرائیل کو اشتعال دلا کر جوابی کارروائی پر مجبور کرنا تاکہ عرب اور مسلمانوں میں اسرائیل کے خلاف بدلے کی آگ بھڑک اٹھے۔

عالمی انتہا پسندی پر قابو پانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی انتہا پسندی کو شکست دینے کے لیے ایک ایسے اعتدال پسند اتحاد کی ضرورت ہے جس میں مسلم، یہودی، عیسائی، عرب اور مغرب کی خوشحال اور ترقی پذیر اقوام شامل ہوں، اسی طریقے سے امن اور ترقی کا حصول ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’ ہم عالمی انتہا پسندی کے خلاف جنگ جیت لیں گے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد