’ٹونی بلئیر اور سر بلیئر معافی مانگیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس ماہ کے اوائل میں مشرقی لندن میں دہشت گردی کے شبہے میں دو ایشیائی بھائیوں کے گھر پر پولیس کے چھاپے لیکن کسی بھی ثبوت کے حصول میں پولیس کے ناکامی پر اتوار کو لندن میں ایک مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پولیس اپنے کیئے پر بھرپور معذرت کرے۔ فارسٹ گیٹ میں جہاں پولیس نے چھاپہ مارا تھا، سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور دو جون کو علاقے کے ایک گھر میں کیماوی ہھتیار برآمد کرنے کے لیئے پولیس کے چھاپے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ جس گھر میں چھاپہ پڑا تھا اس میں رہنے والے دونوں بھائی عبدالقہار اور عبدالکویار، کئی دن تک پولیس کی حراست میں رہے۔ تاہم بعد ازاں انہیں بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا گیا۔ مدثر احمد نے جو مظاہرے کے منتظمین کے ترجمان تھے کہا: ’ہم واضح طور پر یہ چاہتے ہیں کہ پولیس اپنے کیئے پر بلا مشروط معافی مانگے۔‘
اس مظاہرے کی قیادت کویار نے کی اور مظاہرے کے اختتام پرایک مقامی پارک میں جلسہ بھی کیا گیا۔ مظاہرین اس گھر سے سو گز تک پیدل چلے جس میں پولیس نے چھاپہ مارا تھا۔ مظاہرین نے ایک بینر بھی اٹھا رکھا تھا جس پر درج تھا: ’نیوہیم کے لوگ انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں پندرہ سو سے لیکر دو ہزار تک افراد نے شرکت کی۔ منگل کو دونوں بھائیوں نے ایک نیوز کانفرنس کی تھی جہاں انہوں نے جذباتی انداز میں ان تمام واقعات کا ذکر کیا تھا جو پولیس کے چھاپے کے دوران پیش آئے تھے۔ اس کے بعد میٹروپولیٹن پولیس کے نائب اینڈی ہیمین نے ایک بیان میں یہ کہا تھا کہ اگر پولیس کی کارروائی سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ مظاہرے کے اختتام پر ایک بیان میں کہا گیا کہ نہ صرف پولیس کمشنر سر ایئن بلیئر بلکہ وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر بھی معافی مانگیں۔ | اسی بارے میں ’تشدد ہماری فطرت میں ہی نہیں‘13 June, 2006 | آس پاس پولیس کیخلاف قانونی چارہ جوئی11 June, 2006 | آس پاس لندن میں کیمیکل ڈیوائس کی تلاش03 June, 2006 | آس پاس لندن: بھائیوں کا الزامات سے انکار04 June, 2006 | آس پاس لندن میں چھاپہ، لوگوں میں تشویش07 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||