BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 June, 2006, 06:44 GMT 11:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس کیخلاف قانونی چارہ جوئی
مشرقی لندن
جمعہ کو فارسٹ گیٹ کے علاقے سے ان دونوں بھائیوں کو گرفتار کیا گیا تھا
اطلاعات کے مطابق مشرقی لندن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس کے چھاپوں میں گرفتار ہونے والے دونوں افراد اپنی گرفتاری پر پولیس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

جمعہ کوان دونوں بھائیوں میں سے ایک بیس سالہ ابو الخیر کو چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا تھا جبکہ دوسرے تئیس سالہ عبدالقہار کوگولی ماری گئی تھی۔اس کارروائی میں پولیس کے دو سو پچاس اہلکاروں نے حصہ لیا تھا جن میں سے کئی کیمیائی ہتھیاروں سے بچاؤ کے لباس پہنے ہوئے تھے۔

ان بھائیوں کے وکیل نے اخبار اوبزرور کو بتایا کہ ان کے موکل نے میٹرو پولیٹن پولیس کے خلاف قانونی چارہ کا فیصلہ کیا ہے۔

دیگر اخبارات میں بھی اس بات کا اشارہ دیا گیا ہے کہ فورسٹ گیٹ سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں بھائی اپنے خلاف کارروائی کے بدلے نقصان اور ذہنی اذیت اٹھانے پر پانچ لاکھ پونڈ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

انڈیپینڈنٹ پولیس کمپلینٹس کمیشن کے سامنے، جو فائرنگ کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے، پولیس نے اس کارروائی کا دفاع کیا ہے۔

اتوار کو مسلمانوں کی مختلف تنظیموں مسلم کونسل آف بریٹن ، مسلم ایسوسی ایشن آف بریٹن اور اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے ان چھاپوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

ابوالخیر کو دہشت گردی کے ایکٹ دو ہزار کے تحت ایک ہفتے تک زیرحراست رکھ کر جمعہ کو پولیس نے رہا کر دیا۔ دوارن حراست ان سے دہشت گردی کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔ پولیس کو ان بھائیوں کے قبضے سے کسی کیمیائی ہتھیار کا سراغ نہیں ملا۔

احتجاج
مسلمانوں کی مختلف تنظیموں مسلم کونسل آف بریٹن ، مسلم ایسوسی ایشن آف بریٹن اور اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے ان چھاپوں کے خلاف احتجاج کیا گیا

ان کے وکیل نے مزید بتایا کہ اس کارروائی کے خلاف محض قانونی چارہ جوئی کافی نہیں ہے کیونکہ ان کے موکلوں کو اخلاقی طور پر جو نقصان پہنچا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔

سنیچر کو ایم سی بی کے جنرل سیکریٹری محمد عبدالباری نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کے اندر جو سوال اٹھ رہا ہے وہ ان خفیہ معلومات سے متعلق ہے جس کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو کمیونٹی کی سطح پر اعتماد سازی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

شہری پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر پہلے ہی ان چھاپوں کے نتیجے میں پہنچنے والی تکلیف پر معافی مانگ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس فورس مستقبل میں بھی بلا تفریق کمیونٹی کی خدمت میں مصروف عمل رہے گی اور اس حوالے سے اٹھا گئے تمام مسائل کا سد باب کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد