پولیس کیخلاف قانونی چارہ جوئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق مشرقی لندن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس کے چھاپوں میں گرفتار ہونے والے دونوں افراد اپنی گرفتاری پر پولیس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ جمعہ کوان دونوں بھائیوں میں سے ایک بیس سالہ ابو الخیر کو چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا تھا جبکہ دوسرے تئیس سالہ عبدالقہار کوگولی ماری گئی تھی۔اس کارروائی میں پولیس کے دو سو پچاس اہلکاروں نے حصہ لیا تھا جن میں سے کئی کیمیائی ہتھیاروں سے بچاؤ کے لباس پہنے ہوئے تھے۔ ان بھائیوں کے وکیل نے اخبار اوبزرور کو بتایا کہ ان کے موکل نے میٹرو پولیٹن پولیس کے خلاف قانونی چارہ کا فیصلہ کیا ہے۔ دیگر اخبارات میں بھی اس بات کا اشارہ دیا گیا ہے کہ فورسٹ گیٹ سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں بھائی اپنے خلاف کارروائی کے بدلے نقصان اور ذہنی اذیت اٹھانے پر پانچ لاکھ پونڈ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ انڈیپینڈنٹ پولیس کمپلینٹس کمیشن کے سامنے، جو فائرنگ کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے، پولیس نے اس کارروائی کا دفاع کیا ہے۔ اتوار کو مسلمانوں کی مختلف تنظیموں مسلم کونسل آف بریٹن ، مسلم ایسوسی ایشن آف بریٹن اور اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے ان چھاپوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ ابوالخیر کو دہشت گردی کے ایکٹ دو ہزار کے تحت ایک ہفتے تک زیرحراست رکھ کر جمعہ کو پولیس نے رہا کر دیا۔ دوارن حراست ان سے دہشت گردی کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔ پولیس کو ان بھائیوں کے قبضے سے کسی کیمیائی ہتھیار کا سراغ نہیں ملا۔
ان کے وکیل نے مزید بتایا کہ اس کارروائی کے خلاف محض قانونی چارہ جوئی کافی نہیں ہے کیونکہ ان کے موکلوں کو اخلاقی طور پر جو نقصان پہنچا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ سنیچر کو ایم سی بی کے جنرل سیکریٹری محمد عبدالباری نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کے اندر جو سوال اٹھ رہا ہے وہ ان خفیہ معلومات سے متعلق ہے جس کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو کمیونٹی کی سطح پر اعتماد سازی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ شہری پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر پہلے ہی ان چھاپوں کے نتیجے میں پہنچنے والی تکلیف پر معافی مانگ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس فورس مستقبل میں بھی بلا تفریق کمیونٹی کی خدمت میں مصروف عمل رہے گی اور اس حوالے سے اٹھا گئے تمام مسائل کا سد باب کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں لندن: بھائیوں کا الزامات سے انکار04 June, 2006 | آس پاس لندن میں کیمیکل ڈیوائس کی تلاش03 June, 2006 | آس پاس لندن:چھاپے میں ایک زخمی02 June, 2006 | آس پاس لیڈز کا پہلا مسلمان میئر منتخب22 May, 2006 | آس پاس لندن دھماکے: وجہ وسائل میں کمی 11 May, 2006 | آس پاس پاکستانی: حملے کی ’سازش‘ کا مقدمہ21 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||