لندن دھماکے: وجہ وسائل میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ سال سات جولائی کو لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی ایک پارلیمنٹری رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے سکیورٹی سروسز بم دھماکوں میں ملوث افراد کو بروقت گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ کامنز انٹیلجنس اینڈ سکیورٹی کمیٹی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی سروسز ان حملوں کو ہونے سے نہیں روک سکتی تھیں۔ جولائی میں بم دھماکے کرنے والے چار رکنی گروہ کے سربراہ محمد صدیق خان جن کا تعلق ویسٹ یارک شائر سے تھا، زیر نگرانی تو رکھا گیا تھا تاہم انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ جمعرات کو برطانوی وزیر داخلہ جان ریڈ اراکین پارلیمنٹ کو سات جولائی کے بم دھماکوں کے حوالے سے حکومتی پیش رفت سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز تفتیشی کارروائی کے دوارن خان اور دوسرے بمبار شہزاد تنویر کے قریب پہنچ گئی تھیں تاہم انہوں نے ان افراد سے کسی بھی قسم کے خطرے کو اہمیت نہیں دی۔ کمیٹی کے مطابق سکیورٹی سروسز اس بات سے آگاہ تھیں کہ صدیق خان اور شہزاد تنویر پاکستان گئے اور شاید ایسا ہو سکتا ہے کہ ان کے القاعدہ کے کچھ اراکین سے رابطے ہوں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مزید وسائل بروئے کار لائے جاتے تو سات جولائی کے حملوں کے بچنے کے زیادہ امکانات پیدا ہو سکتے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ کار پاکستان تک بڑھانے یا برطانیہ میں موجود وسائل کی مدد سے شاید سکیورٹی ایجنسیوں کو سات جولائی کے حملوں کے محرکات کے بارے میں مطلع کیا جا سکتا تھا۔ کمیٹی میں شامل مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنےوالے اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اس وقت انٹیلجنس اہلکاروں کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔ اس کے ساتھ اراکین پارلیمنٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ سات جولائی کے حملوں سے قبل برطانیہ پر ہونے والے حملے ناکام بنا دئیے گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت فیصلہ کیا گیا کہ خان اور تنویر یا ان کی شاخت کے بارے میں تفتیش نہ کی جائے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی سرزمین پر جنم لیے والے اس خطرے پر قابو پانے کے لیے کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ضروری یقین دہانیوں کی بجائے برطانیہ کو درپیش ممکنہ خطرے سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیےایک شفاف نظام تشکیل دے۔ حکومت کے ترجمان نے کمیٹی کی ممکنہ خطرے سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیےایک شفاف نظام کے قیام کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لوگوں کا اعتماد بڑھے گا اور مشکوک کارروائیوں کی نگرانی کے عمل میں بھی اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں لندن میں ہونے والے ان بم دھماکوں میں 52 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں لندن: انڈرگراؤنڈ سٹیشن خالی 21 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: کب کہاں کیا ہوا؟21 July, 2005 | آس پاس ’چار دھماکوں کی کوشش کی گئی‘21 July, 2005 | آس پاس دھماکوں کا مسلم طلباء پر اثر20 July, 2005 | آس پاس لندن حملے، ایک شخص پر فرد جرم عائد03 August, 2005 | آس پاس لندن بمبار کی ویڈیو جاری02 September, 2005 | آس پاس لندن پر حملے کی دس کوششیں: میئر27 December, 2005 | آس پاس ’سِڈ‘خود کش حملہ آور کیسے بنا؟17 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||