BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 June, 2006, 02:15 GMT 07:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن: بھائیوں کا الزامات سے انکار
لندن
لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر گولی چلانے کی وجہ کیا تھی؟ مسلم تنظیم
لندن میں مسلمانوں نے پولیس کی جانب سے فارسٹ گیٹ میں ایک گھر پر چھاپا مار کر دو بنگلہ دیشی نژاد بھائیوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ دونوں بھائی کیمیائی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ دونوں بھائیوں نے اس الزام سے انکار کیا ہے۔ چھاپے کے دوران ایک بھائی تئیس سالہ عبدالقہار کے کندھے میں گولی لگی اور وہ ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کے بیس سالہ چھوٹے بھائی پیڈنگٹن گرین پولیس سٹیشن میں زیر حراست ہیں۔

عبدالقہارنے اپنے وکیل کو بتایا کہ پولیس نے ان پر بغیر وارننگ کے گولی چلا دی تھی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں۔

عبدالقہار کے مطابق صبع چار بجے وہ اوپر والی منزل سے یہ دیکھنے کے لیئے نیچے اترے تھے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے؟ ان کے ہمسائے میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی بے قصور ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گرفتار کرنے سے پہلے پولیس نے بارہ گھنٹے تک ان کو تحویل میں رکھا۔ تاہم پولیس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

فارسٹ گیٹ میں لوگوں نےاگلے ہفتے ایک میٹنگ بلانے کا اعلان کیا ہے جس میں پولیس کی کارروائی کے طریقۂ کار کو زیر بحث لایا جائے گا۔ علاقے کی ایک مقامی تنظیم مسلم سیفٹی فورم کے سربراہ آزاد علی کا کہنا تھا کہ علاقے میں کافی خوف پایا جاتا ہے، لوگ پریشان ہیں اور سمجھ نہیں پا رہے کہ معاملہ کیا ہے؟ خاص طور پر گولی چلائے جانے کے بعد ان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کی کیا ضرورت تھی۔

مرکزی لندن کی ایک عدالت نے پولیس کو دونوں بھائیوں کو بدھ تک تحویل میں رکھنے کی اجازت دی ہے۔ توقع ہے کہ بڑے بھائی کو اتوار کی دوپہر ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا جس کے بعد انہیں بھی تھانے لے جایا جائے گا۔

انڈیپنڈنٹ پولیس کمیشن نے کہا ہے کہ وہ پولیس کی طرف سے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کریں گے۔ کمیشن نے اس سے پہلے سٹاک ویل سٹیشن پر ایک برازیلی کے پولیس ہاتھوں ہلاکت کے واقعے کی بھی تفتیش کی تھی۔

دریں اثنا پولیس حفاظتی لباس پہنے اس گھر کی تلاشی لے رہی ہے جہاں ان کا خیال ہے کہ گھریلو ساخت کا ایک کیمیائی آلہ چھپایا گیا ہے۔ اس آلے کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ گیس سے بھرا ہوا ایک ڈبہ ہے جس کے ساتھ دھماکہ خیز مواد جوڑا گیا ہے۔ تاہم ابتدائی تلاشی کے دوران پولیس کو کوئی بھی مشتبہ چیز نہیں ملی اور اب شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس آلے کو کہیں اور چھپا دیا گیا ہے۔

پولیس افسران اب اس گھر میں انگلیوں کے نشانات اور کیمیائی مادے کے ممکنہ ذرات تلاش کرنے کے لیئے تفصیلی معائنہ کر رہے ہیں جس میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد