لندن میں کیمیکل ڈیوائس کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں پولیس جمعہ کے چھاپے کے بعد کیمیاوی ہتھیار یا ’کیمیکل ڈیوائس‘ کی تلاش میں ہے۔ انسداد دہشتگردی کے اہلکاروں نے مشرقی لندن میں چھاپے مار کر دو افراد کو گرفتار کیا تھا جبکہ ایک کو گولی ماری تھی۔ دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے نئے قانون کے تحت اس بڑے آپریشن میں ڈھائی سو پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا تھا۔ تئیس سالہ مشتبہ نوجوان کو فارسٹ گیٹ کے علاقے میں گولی مای گئی تھی جبکہ اس کے بیس سالہ بھائی کو پیڈنگٹن گرین کے پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے۔ گولی لگنے والے نوجوان کو بعد میں گرفتار کر کے ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں ’مصدقہ‘ اطلاع ملی تھی کہ اس گھر میں کوئی ’کیمیکل ڈیوائس‘ موجود ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کچھ ’خطرناک‘ اور ’زہریلا مادہ‘ اب بھی اس گھر میں موجود ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار مارگریٹ گلمور کا کہنا ہے کہ پولیس کا خیال ہے کہ یہ کوئی جدید ساخت کا بم نہیں ہوگا لیکن گھریلو طور پر بنایا گیا کوئی بم ہوسکتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق جس شخص کو گولی ماری گئی اس کا نام عبدل قہار ہے جبکہ دوسرے مشتبہ شخص کا نام عبدل کویار بتایا گیا ہے۔ عبدالقہار کو ایک گولی ماری گئی تھی جس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ پولیس سے حادثاتی طور پر گولی چلی۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ ’شوٹ ٹو کل‘ پالیسی کے تحت نہیں مارا گیا تھا۔ فارسٹ گیٹ کی لینس ڈاؤن روڈ پر واقع گھر پر بائیو کیمیکل لباس اور ماسک پہن کر پولیس کو تلاشی لیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ چھاپے کا فیصلہ ایم آئی فائیو، شعبہ انسداد دہشتگردی اور بائیو کیمیکل ماہرین کے درمیان بات چیت کے بعد کیا گیا۔ علاقے میں نیچی پروازوں پر بھی پابندی لگادی گئی تھی۔ تاہم مقامی افراد سے علاقے کو خالی نہیں کروایا گیا تھا کیونکہ یا تو کسی بڑے دھماکے کا خدشہ نہیں تھا یا پھر پولیس مشتبہ افراد کو الرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ پولیس کے مطابق جمعہ کی کارروائی کا گزشتہ جولائی میں ہونے والے لندن دھماکوں سے تعلق نہیں ہے۔ ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر پیٹر کلارک نے کہا کہ کارروائی بہت سوچ سمجھ کر کی گئی ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ آیا خفیہ معلومات درست تھیں یا غلط۔ بی بی سی کے برطانیہ کے داخلی امور کے نامہ نگار ڈینیل سینفورڈ کے مطابق مشرق لندن میں کی جانے والی کارروائی دہشت گردی کے خلاف سال رواں کی سب سے اہم کارروائی ہے۔ زخمی ہو جانے والے نوجوان کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اسے دہشتگردی کی مالی معاونت کرنے کے علاوہ دہشتگردی کے عمل کی تیاری اور دوسروں کو دہشتگردی پر اکسانے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مذکورہ مکان میں گرفتار کیے جانے والے دو نوجوانوں کے علاوہ دیگر افراد بھی تھے لیکن پولیس نے انہیں حراست میں نہیں لیا۔ ان افراد کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مشرقی لندن میں جمعہ کی کارروائی اس اطلاع کے بعد کی گئی ہے جس کے مطابق بین الاقوامی دہشتگردی کی سازش میں برطانیہ کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ مشتبہ افراد کی ای میلزئ فون کالز اور ان کی حرکات و سکنات کا ریکارڈ جمع کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سکیورٹی اداروں کے مطابق اس کارروائی سے پہلے کئی ماہ تک علاقے کی نگرانی کی گئی تھی۔ گھر کی تلاشی میں کئی دن لگ جائیں گے۔گھر کے ارد گرد ایک کپڑے کا خیمہ لگایا گیا ہے اور آس پاس کی سڑکیں بھی بند ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایم آئی فائیو کے اہلکار بنگلہ دیشی نژاد برطانوی باشندوں کے ایک گروپ پر کئی ہفتوں سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں لندن دھماکے: کب کہاں کیا ہوا؟21 July, 2005 | آس پاس دھماکے لندن میں، تذکرے میرپور میں17 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: وجہ وسائل میں کمی 11 May, 2006 | آس پاس لندن دھماکے،مشرف قتل سازش30 March, 2006 | آس پاس لندن دھماکے ایک ہی وقت پر ہوئے09 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||