لندن دھماکے،مشرف قتل سازش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کے ملزمان پر مقدمے کے ایک گواہ نے پاکستان کے صدر کو ہلاک کرنے کی سازش کا انکشاف کیاہے۔ پاکستان کے پیدائشی اکتیس سالہ امریکی شہری محمد بابر نے جو اس مقدمے میں استغاثے کے گواہ ہیں اولڈ بیلی عدالت کو بتایا کہ وہ صدر پرویز مشرف کے قتل کی دو سازشوں میں شریک تھے۔ یہ مقدمہ ان سات افراد پر چلایا جا رہا ہے جو اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ انہوں نے برطانیہ میں بم دھماکے کرنے کی سازش کی تھی۔ بابر نے عدالت کو بتایا کہ اسے امریکہ میں مقدمات سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اور یہ کہ برطانوی ملزمان کا پاکستان کی سازشوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مقدمے میں ایک ملزم عمر خیام کے وکیل جوئل بینیتھن نے اس مرحلے پر محمد بابر سے کہا کہ اگر وہ اس مقدمے میں گواہی نہ دیتے تو کیا انہیں پاکستان میں پھانسی کے خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑتا، تو بابر ان سے اتفاق کیا۔ بابر پر پہلا مقدمہ مبینہ طور پر نیم خودکار اے کے 47 اور پانچ ہزار گولیاں اور دستی بم رکھنے کے الزام کے تحت بنایا گیا تھا۔ دوسرے مقدمے میں ان پر یہ الزام تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے کہا کہ وہ عید کے موقع پر صدر مشرف کو ہلاک کرنے کے لیے گروہ ترتیب دیں۔ ’سپرگراس‘ کا فرضی نام پانے والے بابر کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف امریکہ میں مقدمے زیر سماعت تھے لیکن ان پر سازشوں کے مقدمات نہیں چلائے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے: ’محکمۂ انصاف نے میرے خلاف مقدمات نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے‘۔
ان کے مطابق ’مجھے بتایا گیا ہے کہ مجھے معافی دے دی گئی ہے۔ مجھے کہا گیا ہے کہ اس بارے مجھ پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا‘۔ بابر نے اس بات کی تردید کی انہوں نے خود کو بچانے کے لیے عدالت سے جھوٹ بولا لیکن انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں ایف بی آئی کا اہم گواہ ہونے کا فائدہ ہوا ہے۔ انہوں اس بات کی بھی تردید کی کہ انہوں نے محض قیاس آرائی کو توڑ موڑ کر برطانیہ میں کی جانے والی ایک طے شدہ سازش بنا دیا۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کے کیا وہ یہ سمجھتے ہیں 11/9 کا واقعہ کوئی اچھی بات تھا تو بابر کا کہنا تھا کہ ’حکمت عملی کے طور پر نہیں، لیکن اس کے علاوہ میرے لیے اس میں کوئی مسئلہ نہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک ہمارے شہری مارے جا رہے ہیں مجھے اس میں کوئی مسئلہ دکھائی نہیں دیتا‘۔ بابر نے کہا کہ اصل دہشت گرد مغرب ہے اور طالبان کسی اور سے کہیں زیادہ ایک کامل اسلامی ریاست کے قیام کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔ بابر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر کوئی پاکستان میں مسلح تربیت کا کیمپ قائم کرنے کے لیے ان سے رابطہ کرتا تو ان کے ایسے رابطے تھے کہ وہ خود کار اسلحہ اور راکٹ لانچر فراہم کر سکتے تھے۔
اس سے قبل سماعت میں کہا گیا تھا کہ ملزمان کینٹ کے بلیو واٹر شاپنگ سینٹر، لندن کے ایک بڑے کلب اور ٹرینوں میں دھماکوں کی باتیں کر رہے تھے۔ بابر کا دعویٰ ہے کہ وہ ملزمان کے ساتھ انگلینڈ اور پاکستان کے الزامات میں شریک تھے۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ملزمان میں سے کچھ پر پاکستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ میں شرکت کا الزام ہے۔ کراولے، ویسٹ سسکس کے ملزمان وحید محمود، امین، جاوید اکبر، خیام اور ان کے بھائی شجاع محمد، مشرقی لندن، الفرڈ کے رحمٰن آدم کے طور پر بھی جانے جانے والے انتھونی گارشیا اور سُرے کہ نبیل حسین دھماکوں کی سازش کرنے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ خیام، گارشیا اور حسین امونیم نائٹریٹ کھاد رکھنے کے الزام کی تردید کرتے ہیں جب کہ خیام اور شجاع محمود نے امونیم پاؤڈر رکھنے کے الزام سے بھی انکار کیا ہے۔ مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ | اسی بارے میں ’لندن دھماکے القاعدہ نے کروائے‘19 September, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: سات مزید گرفتار31 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: کب کہاں کیا ہوا؟21 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: تفتیش کیسے ہوئی12 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: تفتیشی آپریشن شروع09 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے ایک ہی وقت پر ہوئے09 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: ملزموں کی تلاش شروع07 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: 38 ہلاک، 700 زخمی07 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||