لندن دھماکے: تفتیشی آپریشن شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں دھماکوں کا سراغ لگانے کے لیے لندن پولیس نے فورنسک اور انٹیلیجنس شہادتیں اکھٹی کرنی شروع کر دی ہیں۔ برطانیہ نے دہشت گردی کا نشانہ بنے والے یورپی ملک سپین سے بھی مدد حاصل کر لی ہے اور سپین کے دہشت گردی کے ماہرین کی ایک ٹیم لندن پہنچ رہی ہے۔ لندن میں جعمرات کو ہونے والے ان دھماکوں میں پچاس لوگ ہلاک اور سات سو زخمی ہو گئے تھے۔ کنگز کراس انڈر گروانڈ سٹیشن سے ابھی تک لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔ کنگ کراس کا سٹیشن لندن کا سب گہرائی والا سٹیشن ہے اور جس ٹرین میں دھماکہ ہوا وہ سو فٹ سے زیادہ گہرائی میں واقع ایک سرنگ میں ابھی تک پھنسی ہوئی ہے۔ لندن پولیس اب اس بات کی بھی تحقیق کر رہی ہے کہ دھماکے کتنی کتنی دیر بعد ہوئے تھے۔ شروع میں پولیس کا خیال تھا کہ دھماکے 25 منٹ کے دوران ہوئے لیکن اب دعوی کیا جا رہا ہے کہ دھماکے ہر پانچ منٹ ہوئے تھے۔ فورنسک ماہرین کی ٹیم ٹرین اور بس میں دھماکے کی جگہ سے ایسی نشانیاں اکھٹے کر رہے ہیں جس سے یہ پتہ لگایا جا سکے کہ دھماکہ کرنے والوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ ٹیوزسٹاک میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی بس کی چھت فورنسک ماہرین نے اپنے قبضے میں لے لی ہے تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ دھماکے میں کون سا مواد استعمال کیا گیا اور وہ کہاں سے آیا۔ لندن پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ دھماکوں کا سراغ لگانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور اگلے کچھ دنوں میں بہت کچھ ہوتا ہوا نظر آئے گا۔ ادھر پولیس نے لندن میں نصب کیے گئے کیمروں سے لی گئی تصویروں کا معائنہ شروع کر دیا ہے۔ پولیس کو امید ہے کہ وہ دھماکہ کرنے والوں کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لندن پولیس کمشنر سر آئن بلیئر نے کہا ہے کہ جمعرات کے دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد پچاس ہو گئی ہے جبکہ اب تک کی تفتیش سے خودکش حملے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کے حملوں میں ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے اور اندازہ ہے کہ جنہوں نے دھماکے کیے ’وہ یا تو برطانیہ ہی میں کہیں فرار ہو چکے ہیں یا یہاں سے کہیں اور جا چکے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ لندن میں پولیس مذہبی مقامات کی خصوصی حفاظت کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق لندن میں لوگوں نے دھماکوں کے بعد کسی کمیونٹی کے خلاف غصے اور نفرت کا اظہار نہیں کیا ہے ۔ اس سے قبل وزیر داخلہ چارلس کلارک نے کہا تھا کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ان وارداتوں میں اسلامی دہشت گرد ملوث تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||