BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 March, 2006, 20:48 GMT 01:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی: حملے کی ’سازش‘ کا مقدمہ
ساتوں ملزمان نے اپنے خلاف لگائے گئے ان تمام الزامات کی تردید کی۔
منگل کے روز سات پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے خلاف برطانیہ میں بم حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی ہے۔

ان ملزمان کو دو سال قبل گرفتار کیا گیا تھا اور ان گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن میں سینکڑوں پولیس اہلکار شریک تھے۔

ساتوں ملزمان پاکستانی نژاد برطانوی مسلمان اور نوجوان ہیں۔

مقدمے کی سماعت کے پہلے روز عدالت کو بتایا گیا کہ ساتوں پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں نے ملک میں بم حملے کرنے کے لیئے ضروری مواد حاصل کر لیا تھا۔

استغاثہ کے وکیل ڈیوڈ واٹرز کیو سی نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان شراب خانوں، نائٹ کلبوں اور ٹرینوں کو نشانہ بنانے کے بارے میں منصوبہ بندی کر رہے تھے لیکن پولیس نے ان کو اپنے منصوبے کا عملی جامہ پہنانے کا موقع نہیں دیا اور انہیں گرفتار کر لیا۔

عمر خیام نے مبینہ طور پر شراب خانوں اور نائٹ کلبوں کو نشانہ بنانے کی تجویز دی تھی
ان ملزمان کے خلاف جنوری 2003 سے اپریل 2004 کے دوران ہلاکت خیز بم حملے کرنے کی منصوبے بندی کا الزام ہے۔ ان میں سے چار ملزمان کے خلاف بم بنانے کے لیے استعمال ہونے والا کیمیاوی مواد رکھنے کا بھی الزام ہے۔

ساتوں ملزمان نے اپنے خلاف لگائے گئے ان تمام الزامات کی تردید کی۔

مسٹر واٹرز نے جیوری کو بتایا کہ عدالت کے سامنے ایک امریکی شہری محمد بابر کو پیش کیا جائے گا جو ان سات ملزموں کے ساتھ دہشت گرد حملے کے منصوبے میں شریک رہا ہے۔

محمد بابر نے امریکہ میں دہشت گردی سے متعلقہ الزامات کا اقرار کیا اور استغاثہ کے مطابق ان کے پاس ایسی معلومات ہیں جو اس منصوبے کے سلسلے میں کسی شریک ملزم کے پاس ہی ہو سکتی ہیں۔

استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ محمد بابر نے ملزمان سے انگلینڈ اور پاکستان میں کئی مرتبہ ملاقات کی۔

استغاثہ کے مطابق ساتوں ملزمان کے پاکستان میں خاندانی روابط ہیں اور ان کے پاکستان جانے کے بڑی مقاصد میں بم بنانے کے لیے ضروری مہارت حاصل کرنا تھا۔

ملزمان میں سے چوبیس سالہ عمر خیام، اس کے بھائی انیس سالہہ شجاع محمود، چونتیس سالہ وحید محمود اور بائیس سالہ جواد اکبر کا تعلق مغربی سسیکس کے علاقے کرالے ہے جبکہ تئیس سالہ گارشیا آدم عرف رحمان آدم مشرقی لندن کے علاقے اِلفورڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔

اکتیس سالہ صلاح الدین امین بیڈفورڈشائر کے قصبے لیوٹن اور بیس سالہ نبیل حسین سرے کے علاقے ہورلے سے تعلق رکھتے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مقدمہ کئی ماہ تک جاری رہے گا۔ اس مقدمے کو برطانیہ میں اب تک مشتبہ شدت پسند مسلمانوں پر چلایا جانے والا سب سے بڑا مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
صلاح الدین امین کون ہے؟
15 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد