صلاح الدین امین کون ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کے روز بم دھماکے کی سازش کرنے کے الزام میں ہیتھرو ائیرپورٹ سے گرفتار ہونے والے انتیس سالہ صلاح الدین امین لندن کے نواح میں واقع آبادی لُوٹن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد راجہ محمد امین راولپنڈی کی کہوٹہ تحصیل کے گاؤں مٹور سے نقل مکانی کر کے لُوٹن میں اوورسٹون روڈ پر منتقل ہوئے تھے۔ چار سال پہلے وہ اپنے والد، والدہ اور چھوٹے بھائی عمر بن امین کے ساتھ پاکستان چلے گئے جبکہ ان کی دو بہنیں لُوٹن میں ہی رہائش پذیر رہیں۔ ان کے ایک قریبی دوست عامر رضوان کے مطابق صلاح الدین امین ایک دینی سوچ رکھنے والا محنتی نوجوان ہے جس نے یونیورسٹی تعلیم کے دوران ٹیکسی چلا کر اپنے خاندان کی کفالت کی۔ عامر رضوان کے مطابق وہ سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی کچھ عرصہ تک لُوٹن میں ٹیکسی چلاتے رہے اور اس دوران انہوں نے اپنی دونوں بہنوں کی شادی کی۔ اپنے وکیل بیرسٹر فریقین شاہ کے توسط سے جاری کیے گئے ایک بیان میں محمد امین نے الزام لگایا ہے کہ انہیں دس ماہ پہلے دو اپریل سن انیس سو چار کو پاکستانی حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ بیرسٹر فریقین شاہ کے مطابق حراست کے دوران امریکی اور برطانوی حکام بھی ان سے تفتیش کرتے رہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ادھر جامعہ اسلامیہ غوثیہ ویسٹ بورن روڈ لُوٹن کے خطیب قاضی عبدالعزیز چشتی کے مطابق صلاح الدین امین کا خاندان انتہائی نیک اور مذہبی ہے۔ ’ان کے والد راجہ محمد امین پاکستان منتقل ہونے سے پہلے جامعہ غوثیہ سے منسلک تھے جبکہ صلاح الدین امین نے بھی قرآن کی تعلیم اسی مدرسے سے حاصل کی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||