BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 June, 2006, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تشدد ہماری فطرت میں ہی نہیں‘
پریس کانفرنس
پریس کانفرنس کے دوران عبدالقہار آبدیدہ ہوگئے
مشرقی لندن کے علاقے فارسٹ گیٹ میں برطانیہ کی انسدادِ دہشتگردی پولیس کے چھاپے میں گرفتار کیئے جانے اور ایک ہفتے بعد بناء کسی الزام کے رہا کردیئے جانے والے بھائیوں نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف ہیں اور تشدد ان کی فطرت میں نہیں۔

رہائی کے بعد پہلی مرتبہ ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں 23 سالہ عبدالقہار کا کہنا تھا کہ ان کی آنکھ اپنے چھوٹے بھائی بیس سالہ عبدالکویار کی چیخوں سے کھلی۔

انہوں نے بتایا کہ’میں نے اپنے کمرے سے چیخوں کی آواز سنی اور بستر سے باہر نکلا۔ میں صرف ایک ٹی شرٹ اور نیکر میں ملبوس تھا اور مجھے لگا کہ ہمارے گھر میں ڈکیتی ہو رہی ہے‘۔

عبدالقہار کے مطابق وہ سیڑھیوں سے اترے ہی تھے کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور وہ گر گئے۔ انہوں نے کہا کہ’ میں فرش پر گرا۔ جب میں نے اپنے سینے کی جانب دیکھا تو وہاں سے خون نکل رہا تھا اور میرے سینے میں سوراخ تھا۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ مجھے گولی لگی ہے اور میں مر جاؤں گا‘۔

وہ گھر جہاں چھاپہ مارا گیا

عبدالقہار کا کہنا تھا انہیں پکڑ کر سیڑھیوں سے نیچے لے جایا گیا اور پھر مکان سے باہر نکال کر سڑک پر لٹا دیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت پتہ چلا کہ یہ ایک پولیس آپریشن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں لاتیں ماریں اور چپ رہنے کو کہا۔

پریس کانفرنس کے دوران عبدالقہار آبدیدہ ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ پولیس کی اس کارروائی کے بعد سے وہ ٹھیک سے سو نہیں سکے ہیں اور انہوں نے اس آپریشن میں شریک تمام افراد سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے خاندان سے معافی مانگیں۔

قبل ازیں عبدالقہار کے وکلاء نے بتایا تھا کہ دونوں بھائی پولیس کے خلاف ہتکِ عزت کا دعوٰی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ لندن پولیس نےگزشتہ جمعہ کو مشرقی لندن کے ایک گھر پر کیمیاوی ہتھیار یا ’ کیمیکل ڈیوائس‘ کی تلاش میں چھاپہ مارا تھا جس میں دو بھائیوں کوگرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم پولیس کو اس مکان سے کسی قسم کا ہتھیار نہیں ملا تھا۔ اس آپریشن میں ڈھائی سو پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد