لندن چھاپے کی منطق پر سوالات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے علاقے فاریسٹ گیٹ میں پولیس کی طرف سے دو جون کو مارے جانے والے چھاپے اور اس دوران دو بھائیوں کی گرفتاری اور بعد میں رہائی کے بعد پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے طریقۂ کار کے متعلق سوالات اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔ بیس سالہ عبدل الخیر اور تیئس سالہ عبدالقہار کو گزشتہ ہفتے لندن میں گرفتار کیا گیا تھا۔ چھاپے کے دوران عبدالقہار کو گولی بھی لگ گئی تھی۔ دونوں بھائیوں نے دہشت گردی کے کسی بھی منصوبے میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کی ہے۔ ان دونوں کو بھائیوں کو جمعہ کی شام کو رہا کر دیا گیا ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس اتھارٹی کے رکن مراد قریشی نے کہا ہے کہ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں تاہم پولیس نے چھاپے کا دفاع کیا ہے۔ پولیس افسران فاریسٹ گیٹ کی لینسڈاؤن روڈ سے کسی بھی قسم کا کیمیائی مواد نہ ملنے کے بعد اب تفتیش کا رخ کسی اور طرف کر رہے ہیں۔ چھاپے کے بعد پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی معلومات ملی تھیں کہ یہ دونوں بھائی کیمیائی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس انکوائری کو جاری رکھے گی۔ نیوہیم مانیٹرنگ پراجیکٹ کے چئرمین اسد رحمان نے دونوں بھائیوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی بھی چھاپے کے متعلق سوالات باقی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم بہت خوش ہیں اور (بھائیوں کا) خاندان بھی خوشی سے جھوم رہا ہے کہ وہ الزام سے بری ہو گئے ہیں اور یقیناً اس طرح ساری برادری ہی الزام سے بری ہو گئی ہے۔ ’ہم نے چھاپے کے متعلق پہلے بھی جس تشویش کا اظہار کیا تھا، سوالات اٹھائے تھے، چھاپے کے پیچھے جو خفیہ اطلاع تھی اور یقیناً یہ حقیقت ہے کہ چھاپے کا اتنا منفی اثر ہوا ہے اور ایک بار پھر ہم نے دیکھا ہے کہ کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا گیا‘۔ سابق میٹ پولیس فلائنگ سکواڈ کے کمانڈر جان او کونر کا کہنا ہے کہ چھاپہ بہت ہی غیر پیشہ وارانہ تھا۔ فاریسٹ گیٹ کے لوگوں نے چھاپے کے بعد پولیس کی اس کارروائی پر سخت تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ پولیس بے گناہ مسلمانوں کو حراساں کرتی رہتی ہے۔ ان دونوں بھائیوں کی رہائی سے کچھ گھنٹے پہلے کچھ افراد نے فارسٹ گیٹ پولیس سٹیشن کے باہر مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’ٹونی بلیئر قاتل‘ اور برطانوی پولیس جہنم میں جاؤ‘ جیسے نعرے لکھے تھے۔ عبدالقہار اور عبدل الخیر کی بہن نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے پچھلے ہفتے کے واقعات کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بے گناہ خاندان کے خلاف یہ کارروائی وحشیانہ اور نامناسب تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان برداری کے ہر فرد کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اب وہ اتوار کو پلیشٹ پارک میں پُر امن مظاہرے میں بھی شریک ہوں۔ اطلاعات کے مطابق اس بیان کو جمعہ کی نماز کے بعد ایسٹ لندن کے بیشتر مساجد میں پڑھ کر سنایا گیا تھا۔ یہ متاثرہ خاندان کا پہلا ایسا بیان تھا۔ دونوں بھائیوں کی رہائی کے موقع پر پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ اس پولیس آپریشن سے اس گھر کے افراد کو تکلیف پہنچی ہے۔ ہم گھر واپس ان کے حوالے کرنے کا انتظام کر رہے ہیں اور مالکان سے مشورے کے بعد گھر کی مناسب مرمت کا کام کرائیں گے‘۔ | اسی بارے میں لندن: بھائیوں کا الزامات سے انکار04 June, 2006 | آس پاس لندن میں چھاپہ، لوگوں میں تشویش07 June, 2006 | آس پاس لندن میں کیمیکل ڈیوائس کی تلاش03 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||