BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 August, 2006, 06:07 GMT 11:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان: امدادی کاموں میں تعطل
جو امدادی قافلے آگے بڑھ رہے ہیں ان کی راہ میں ٹوٹی سڑکیں حائل ہیں
جنوبی بیروت کے لیئے امدادی قافلے اسرائیل کی جانب سے محفوظ راہداری کے متعلق یقین دہانی نہ کروانے پر بیروت اور دیگر شہروں میں پھنس گئے ہیں۔

منگل کے روز ورلڈ فوڈ پروگرام کے دو اور انٹرنیشنل ریڈ کراس کے چار قافلے سامان لے کر آگے نہ بڑھ سکے۔

امدادی ایجنسیوں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ لبنان کے ان جنوبی حصوں میں امداد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے جہاں حزب اللہ اور اسرائیل میں لڑائی ہورہی ہے۔

جو امدادی قافلے آگے بڑھنے کے قابل ہیں ان کی راہ میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور ٹریفک جام حائل ہیں۔

اقوام متحدہ کی ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر مونا ہمام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بمباری کرکے سڑکوں کے جال کو نہایت منظم طریقے سے تباہ کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارہ اسرائیل سے محفوظ راہداری فراہم کرنے کی اپیل کررہا ہے۔

ریڈ کراس اہلکار
 حزب اللہ تو امداد پہنچانے کے لیئے رستے فراہم کرنے پر راضی ہے لیکن مسئلہ اسرائیل کا ہے جو ہماری درخواستوں پر صرف ’ہاں‘ یا ’نا‘ میں جواب دیتا ہے اور اس کی وضاحت بھی نہیں کرتا۔

پیر کو امدادی اداروں کو اپنے کام جاری رکھنے کے لیئے امید کی ایک کرن اس وقت نظر آئی تھی جب اسرائیل نے جزوی سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جنوبی لبنان میں حملے جاری رہے۔

فی الحال امدادی سامان براہ راست مقامی انتظامیہ کے حوالے کیا جارہا ہے۔

ریڈ کراس کے ایک ٹرک میں عموماً 500 خاندانوں کے لیئے پیکٹ ہوتے ہیں جو ہر خاندان کو ایک ہفتے تک کی خوراک فراہم کرسکتے ہیں۔

ان ٹرکوں میں گاؤں کے واٹر پمپوں کے لیئے ایندھن ہوتا ہے اور لوگوں کے لیئے رفع حاجت کا انتظام بھی۔ چنانچہ امدادی سامان بانٹنے کے بعد خالی ٹرکوں کو متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے۔

جنوبی لبنان
لبنان کے جنوبی حصوں میں امداد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے

ورلڈ فوڈ پروگرام کے اہلکار عامر داؤدی کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں متاثرہ لوگوں تک تین ہفتے سے کوئی امدادی سامان نہیں پہنچ سکا ہے۔ ’آپ ان کی حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ان میں کئی غریب، بیمار اور بوڑھے ہیں‘۔

’ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ ان کے پاس خوراک، پانی، ادویات سب کچھ ختم ہوتا جارہا ہے‘۔

پیر کو بیروت سے طائر لے جانے والے ایک امدادی قافلے کو اس سفر میں 11 گھنٹے لگے۔ یہ سفر عموماً 90 منٹ میں طے کیا جاتا تھا۔

قانا میں جہاس اسرائیل نے اتوار کو 37 بچوں سمیت 54 افراد کو ہلاک کیا تھا، پہلا امدادی قافلہ منگل کو پہنچا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے اہلکار کا کہنا ہے کہ حزب اللہ تو امداد پہنچانے کے لیئے رستے فراہم کرنے پر راضی ہے لیکن مسئلہ اسرائیل کا ہے جو ہماری درخواستوں پر صرف ’ہاں‘ یا ’ناں‘ میں جواب دیتا ہے اور اس کی وضاحت بھی نہیں کرتا۔

’یہ تو بالکل واضح ہے کہ اسرائیل ہمیں اس علاقے میں نہیں جانے دے رہا جہاں وہ فوجی کارروائی کررہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹروں یا طیاروں سے امدادی سامان نیچے گرانے کا لبنان میں انتظام نہیں ہے اور نہ ہی اسرائیل سرحد کی جانب سے امدادی سامان اندر پہنچایا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد