حزب اللہ :اسرائیلی دعوے کی تردید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اللہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان کی تردید کی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حملوں میں حزب اللہ کے ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ حزب اللہ کے سیاسی شعبے سے وابستہ غالب ابو زینب نے بی بی سی عربی سروس کو بتا یا کہ حزب اللہ کے تازہ ترین حملےاس بات کے گواہ ہیں کہ اس کی طاقت پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ بائیس دنوں سے جاری جنگ میں پہلی بار حزب اللہ نے اسرائیل کی سرحد کےستر کلومیٹر اندر تک راکٹ سے حملہ کیا ہے۔ خیبر ایک نامی اس راکٹ نے بیت شین کے آس پاس کے دیہات فاکوا اور جالبون کو نشانہ بنا یا۔ اسرائیلی حکومت نے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس حملے میں سات شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ راکٹ ایران کے بنے ہوئے ہیں۔ اب تک کی لڑا ئی میں حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی حصے میں پچاس کلو میٹر اندر تک حملہ کیا تھا۔ لیکن گزشتہ بائیس دنوں میں پہلی بار اس نے شمالی اسرائیل کی سرحد کے ستر کلو میٹر اندر تک راکٹ داغے ہیں۔ لبنان کے سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے منگل کے روز تیں سو راکٹ داغے ہیں۔ ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بیت شین پر کیا گیا راکٹ حملہ حزب اللہ کے ذریعہ کئے گئے 84 راکٹ حملوں میں سے ایک تھا۔ ایک پبلک ریڈیو کے مطابق جن علاقوں میں حملے کیئے گئے وہ علاقہ اسرائیلی آبادیوں میں سے ایک ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک نمائندہ کا کہنا ہے کہ اس نےگزشتہ شب اسرائیلی سرحد کے قریب دو درجن سے بھی زیادہ راکٹوں کو اپنے اوپر سے گزرتے دیکھا۔یہ راکٹ لبنان کے ان علاقوں سے داغے گئے جہاں گزشتہ دو دنوں سے زمینی جنگ جاری ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اسرائیل پر صرف منگل کے دن 156 راکٹ حملے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں اسرائیل: لبنان میں زمینی آپریشن کیوں؟22 July, 2006 | آس پاس حزب اللہ: حقیقی قوت کا راز 23 July, 2006 | آس پاس دو جھڑپوں میں نو اسرائیلی ہلاک26 July, 2006 | آس پاس بنت جبیل: حزب اللہ کا گڑھ 28 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||