BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 August, 2006, 13:30 GMT 18:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان اسرائیل جنگ، کب کیا ہوا
جنگ کے دوران اسرائیلی ٹینک جنوبی لبنان کے علاقے میں داخل ہوگئے
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ کو تقریبًا تین ہفتے ہونے کو آئے ہیں۔ بارہ جولائی سے شروع ہونے والی اس جنگ کی لمحہ بہ لمحہ کہانی درج ذیل ہے۔

تین اگست
اسرائیل نے ایک ہفتے کی خاموشی کے بعد جمعرات کی صبح جنوبی بیروت پر حملے شروع کیئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق بیروت میں یہ حملے جمعرات کی صبح دو بجے کے بعد کیے گئے۔چار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور جنوبی بیروت کے طہیہ کےعلاقے کو نشانہ بنایا گیا جہاں لڑائی کے شروع میں بھی بمباری ہوتی رہی ہے۔ جنوبی لبنان میں لڑائی میں چار اسرائیلی فوجی زخمی اور ایک ہلاک ہوا۔

دو اگست
حزب اللہ نے اسراییلی علاقوں پر دو سو سے زائد راکٹ فائر کیئے اور حیفہ کے نزدیک نہاریہ میں ایک اسرائیلی گھر حزب اللہ کے راکٹ حملے کا نشانہ بنا جس سے ایک شہری ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔ لبنان کے جنوبی شہر سیدون کے نزدیک ایک فوجی چوکی پر اسرائیلی فضائی حملے میں تین لبنانی فوجی ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوجی ذرائع نے حزب اللہ کے تین اہم افراد کو بعلبک کے علاقے سے پکڑنے کا دعوی کیا جبکہ حزب اللہ کے ذرائع نے اس کی تردید کی۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا کہ جنوبی لبنان میں بین الاقوامی فوج کی تعیناتی تک جنگ بندی نہیں کی جائے گی۔

یکم اگست

اسرائیلی فوج نے لبنان پر حملے بڑھا دیئے مگر انہیں حزب اللہ کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی علاقے پر کئی راکٹ داغے۔ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے تین کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔

اسرائیلی حملوں میں اب تک 750 لبنانی ہلاک ہوئے ہیں

یورپی یونین نے اسرائیلی حملوں کی فوری بندش کا مطالبہ کیا۔ اسرائیل کے وزیر انصاف کے مطابق حزب اللہ کے دو ہزار کارکنوں میں سے تین سو کے قریب کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ حزب اللہ نے اس کی تردید کی۔

اکتیس جولائی

اسرائیل نے 48 گھنٹوں کے لیے لبنان کے شہری علاقوں پر حملے روکنے کا اعلان کیا لیکن اسرائیلی کابینہ نے فوج کو کارروائیاں بڑھانے کے لیے گرین سگنل دے دیا۔

تیس جولائی

قانا پر اسرائیلی حملے میں ساٹھ لبنانی شہری ہلاک ہوئے جن میں 37 بچے بھی شامل ہیں۔ مشتعل ہجوم نے بیروت میں اقوام متحدہ کے دفتر پر حملے کیا۔ دنیا بھر میں قانا حملوں کی مذمت کی گئی۔

انتیس جولائی

لبنانی وزیراعظم فواد سینیورا نے کہا کہ اگر اسرائیل سرحدی تحفظ چاہتا ہے تو اسے شیبا فارمز کا علاقہ خالی کرنا ہو گا جس پر وہ 1967 سے قابض ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اسرائیل پر مزید حملوں کی دھمکی دی۔

اٹھائیس جولائی

امریکی صدر جارج بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر نے لبنانی حکومت کو بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لیے بین الاقوامی فوج بھیجنے پر رضا مندی ظاہر کی۔

جنوبی لبنان میں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں

ستائیس جولائی

روم میں مشرق وسطیٰ بحران پر ہونے والے اجلاس کی ناکامی کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا کہ اسے حملے جاری رکھنے کی عالمی منظوری مل گئی ہے۔

چھبیس جولائی

اقوام متحدہ نے اسرائیل پر یو این تنصیبات پر حملے کرنے کا الزام لگایا اور جنوبی لبنان میں قائم اقوام متحدہ کی ایک چوکی پر حملے میں چار مبصرین ہلاک ہو گئے۔

پچیس جولائی

جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج کے چار فوجی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں بین الاقوامی فوج کی تعیناتی تک’سکیورٹی زون‘ قائم کرنے کے منصوبے کااعلان کیا۔ پہلی مرتبہ اسرائیلی فوجی دستے حزب اللہ کے گڑھ بنت جبیل میں داخل ہوئے۔

چوبیس جولائی

امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے اسرائیل جانے ہوئے راستے میں بیروت کا بھی دورہ کیا اور حزب اللہ پر جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کیا۔

تیئس جولائی

اسرائیلی فضائی حملے میں بارہ لبنانی ہلاک ہوئے جن میں لبنان کا ایک پریس فوٹو گرافر بھی شامل ہے جو طائر شہر میں ہلاک ہوا۔ اسرائیل نے لبنان کے ساحلی شہر مرون الرائیس پر قبضے اور وہاں سے حزب اللہ کے دو اراکین کو پکڑنے کا دعوی کیا۔

اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا اعلان کیا

بائیس جولائی
اسرائیلی فوج نے لبنان کے سرحدی قصبے مرون الرائیس میں داخل ہو کر علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ حزب اللہ نے شمالی اسرائیلی علاقوں پر پچاس راکٹ پھینکے۔

اکیس جولائی

اسرائیلی فوج نے لبنان کے سرحدی علاقوں پر شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کی دھمکی آمیز پوسٹر گرائے۔ حزب اللہ نے چالیس راکٹ فائر کیے جبکہ اسرائیلی حملوں میں 300 لبنانی شہری ہلاک ہوئے۔

بیس جولائی

چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت۔ جنوبی لبنان میں اسرائیل کے دو آپاچی ہیلی کاپٹر تباہ ایک پائلٹ ہلاک۔ اسرائیلی حملوں میں 45 لبنانی ہلاک ہوئے۔
حزب اللہ نے 120 راکٹ داغے۔ دو اسرائیلی عرب بچے نذرت کے علاقے میں ہلاک ہوئے۔

انیس جولائی

حسن نصر اللہ کو ہلاک کرنے کے لیے اسرائیل نے جنوبی بیروت پر 23 ٹن وزنی بم گرائے۔ 70 لبنانی شہری اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے۔

اٹھارہ جولائی

لبنان پر اسرائیلی حملوں میں تیزی، مشرقی بیروت پر ان حملوں میں گیارہ لبنانی فوجی ہلاک ہو گئے۔ حزب اللہ کے اسرائیلی شہر حیفہ پر حملہ کیا جس میں متعدد شہری زخمی ہوئے۔ سعودی عرب نے کہا کہ وہ لبنان میں بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کی حمایت کرتا ہے۔

سترہ جولائی
اسرائیلی حملوں میں 45 لبنانی شہریوں کی ہلاکت۔ حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں حیفہ اور سفید میں دس اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی پر زور دیا۔

سولہ جولائی

حزب اللہ نے حیفہ پر راکٹ حملے کیے جس میں آٹھ شہری ہلاک جبکہ بیس زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے حیفہ پر حملے کے دورس نتائج نکلنے کی دھمکی دی۔ حسن نصر اللہ کے مطابق ابھی محض جنگ کی شروعات ہیں۔
اسرائیلی حملوں میں 23 شہریوں ہلاک۔

پندرہ جولائی
اسرائیلی فوج نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی حملوں میں 35 لبنانی شہری ہلاک۔

اسرائیلی حملوں کے باعث لبنانی شہریوں نے انخلاء شروع کردیا

چودہ جولائی

اسرائیلی فوج نے لبنانی عمارتوں، پلوں، سڑکوں اور پاور سٹیشن کو نشانہ بنایا۔ حزب اللہ کے ٹی وی چینل المینار کو تباہ کردیا گیا۔ حزب اللہ کی جوابی کارروائی میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔

تیرہ جولائی
بیروت میں رفیق حریری انٹرنیشنل ائرپورٹ تباہ کردیا گیا جس کے بعد ائر پورٹ کو فلائٹوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔

بارہ جولائی

حزب اللہ نے اسرائیل کے سرحدی علاقے پر ایک حملے میں دو اسرائیلی فوجیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس حملے میں تین اسرائیلی فوجی ہلاک بھی ہوئے۔
حزب اللہ نے کہا کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کو اسی وقت چھوڑے گا جب اسرائیل کی قید میں موجود حزب اللہ کے کارکنوں کو اس کے حوالے کیا جائے گا۔

اسرائیل نے فوجیوں کی رہائی کے لیے چھوٹے پیمانے پر لبنان کے سرحدی علاقوں پر حملے کیے۔ حزب اللہ نے ایک اسرائیلی ٹینک تباہ کر دیا جس میں سوار چار فوجی ہلاک ہو گئے۔

امداد میں تعطل
محفوظ رستے فراہم نہ کرنے کی ہٹ دھرمی
حسن نصر اللہشیخ حسن نصر اللہ
معاملہ فہم سیاسی مدبر یا جنگجو رہنما
بنت جبیل پر کیا بیتی
21 ویں صدی کا گاؤں اب پتھروں کا ملبہ
اسی بارے میں
بنت جبیل پر کیا بیتی
01 August, 2006 | آس پاس
اسرائیلی فوج بعلبک میں
01 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد