BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 August, 2006, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران کے جوہری ایندھن کی بحث

’ایران کا ایندھن اگلے 80 سال میں ختم ہوسکتا ہے‘
جیسے جیسے ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع بڑھ رہا ہے ویسے ویسے یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ آیا ایران کو واقعی اپنے جوہری ایندھن کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔

تنقید کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ملک جو تیل کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور معدنی گیس کی پیداوار کے لیئے دوسرے نمبر پر ہے، اسے جوہری ایندھن کی تیاری کی کیا ضرورت۔

لیکن ایران کا کہنا ہے کہ یہ وسائل محدود ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ جوہری توانائی بجلی کی پیداوار کا متبادل سستا ذریعہ ہے اور ملک میں بجلی کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ایران کے توانائی کے وزیر پرویز فتح کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس تیل اور گیس کے ذرائع ہیں بالکل اسی طرح جیسے جوہری ایندھن کی پیداوار والے دیگر ممالک میں بھی یہ ذرائع موجود ہیں۔

’ہر روز تیل اور گیس کی استعمال ہونے والی مقدار ان قدرتی وسائل کے ذخائر کو کم کررہی ہے‘۔

پرویز فتح کا کہنا ہے کہ اس کے تیل کے ذرائع اگلے 80 سال میں ختم ہوجائیں گے جبکہ گیس اگلے 200 سال میں۔

امریکہ پر اعتبار نہیں۔۔۔
 ہمیں امریکہ پر اعتبار نہیں۔ اور چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ہمیں ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے، ہمیں اپنے ری ایکٹر خود ہی بنانے ہوں گے اور دوسروں پر انحصار ختم کرنا ہوگا
کمال دانش یار

ایران کا کہنا ہے کہ وہ اتنی جوہری توانائی پیدا کرنا چاہتا ہے کہ اگلے بیس برس میں ملک کی بیس فیصد بجلی کی ضروریات اس سے پوری ہوسکیں۔ ایران کی پارلیمان میں انرجی کمیشن کے سربراہ کمال دانش یار کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ بجلی کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔

ایران میں پہلے ہی بجلی کی کمی کے مسائل ہیں اور اگلے بیس برس میں اس کی آبادی 70 ملین سے بڑھ کر 100 ملین تک جاپہنچے گی۔

دانش یار کا کہنا ہے ’جوہری ایندھن سے پیدا کیئے جانے والے بجلی کے ہر میگاواٹ سے ہم 10 ملین بیرل تیل کی بچت کررہے ہیں‘۔

توانائی کے ایک ایرانی ماہر ناصری قربان کہتے ہیں کہ اس طری معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور ہم گیس کے ذخائر کو دیگر صنعتی استعمال میں لا سکیں گے اور دنیا بھر میں برآمدات بڑھا سکیں گے۔

دوسری جانب امریکہ کی توانائی کے شعبے کے سابق اہلکار جان ولفستھل اس بات تو متفق ہیں کہ اس سے ایران کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایران کا خود جوہری ایندھن کی تیاری پر اصرار بلا جواز ہے۔

ایران
روس کی مدد سے ایران میں پہلا جوہری ری ایکٹر اگلے سال سے کام شروع کردے گا
’ایران اوپن مارکیٹ سے یہ ایندھن سستے داموں خرید سکتا ہے۔ جو جوہری ٹیکنالوجی وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ بہت مہنگی اور مشکل ہے‘۔

سینٹر فار امیریکن پراگریس کے ایک اعلٰی اہلکار کرنکیون کا کہنا ہے کہ 40 ممالک کے پاس جوہری ری ایکٹر ہیں اور یہ سب پانچ یا چھ ممالک سے ایندھن خریدتے ہیں، ایران میں تو ابھی ایک بھی ری ایکٹر نہیں ہے۔

روس کی مدد سے ایران میں پہلا جوہری ری ایکٹر اگلے سال سے کام شروع کردے گا۔

دانش یار کا کہنا ہے کہ ایران مستقبل میں اپنی ضروریات کے لیئے کسی ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہتا۔ ’اگر یہ ممالک جوہری ایندھن فروخت کرنا بند کردیں تو ہم یہ ایندھن کہاں سے حاصل کریں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا ’ہمیں امریکہ پر اعتبار نہیں۔ اور چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ہمیں ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے، ہمیں اپنے ری ایکٹر خود ہی بنانے ہوں گے اور دوسروں پر انحصار ختم کرنا ہوگا‘۔

مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تیاری ہے۔ تاہم ایران ان الزامات کو رد کرتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد