ایران کو صدر بش کا نیا انتباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جوہری پروگرام منجمد کر کے مذاکرات کی پیشکش مسترد کی تو اس سخت تر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر نے کہا اگر ایران نے اس پیشکش کو ٹھکرایا تو عالمی سطح پر اس کی تنہائی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ایران کو جو پیشکش کی گئی ہے اس میں تجارتی اور سکیورٹی کی ضمانتیں شامل ہیں بشرطیکہ اپنا متنازعہ جوہری پروگرام ترک کر دے۔ یورپی اتحاد اور امریکہ چاہتے ہیں کہ ایران ان خدشات کا ازالہ کرے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش میں ہے۔ ایران کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام کا کسی بھی قسم کا فوجی پہلو نہیں ہے اور ابھی تک اس نے رسمی طور پر امریکہ اور یورپی اتحاد کی پیشکش پر ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اس پیشکش کو آگے کی طرف ایک قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے مشوروں کے ساتھ امریکی اور یورپی اتحاد کی تجویز پر ردِ عمل ظاہر کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
فی الحال ایرانی ماہرین اس تجویز پر غور کر رہے ہیں اور ان کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ایران کی حکومت اپنے موقف کو سامنے لائے گی۔ امریکی صدر نے کہا اگر ایران نے پیشکش کو رد کیا تو اسے عالمی سطح پر تنہا ہونے پڑے گااور سیاسی اور معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا جو سخت تر ہوں گی۔ پہلے ہی صدر بش کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کی پیشکش پر ردِ عمل ظاہر کرنے کے لیئے ایران کے پاس مہینے نہیں بلکہ ہفتے ہیں۔ امریکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر بش کا یہ تازہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ کے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایک مرتبہ پھر ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور اسے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے مذاکرات کی پیشکش قبول نہ کی تو اس کے کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ایران: جوابی پیکج کا اعلان کریں گے10 June, 2006 | آس پاس ’یورینیم کی افزودگی جاری ہے‘08 June, 2006 | آس پاس جوہری مذاکرات، ایران کا رویہ مثبت06 June, 2006 | آس پاس امریکی تجویز ’پراپیگنڈہ‘ ہے: ایران31 May, 2006 | آس پاس ہم کوئی بچے نہیں ہیں: احمدی نژاد17 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||