BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 May, 2006, 22:46 GMT 03:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی تجویز ’پراپیگنڈہ‘ ہے: ایران
ویانا میں یورپی اتحاد اور ایران کے مذاکرات کل سے شروع ہو رہے ہیں
امریکہ کی طرف سے جوہری پروگرام کے بارے میں براہ راست مذاکرات کی تجویز کو ایران کے سرکاری خبررساں ادارے نے ابتدائی ردعمل میں’پراپیگنڈہ‘ قرار دیا ہے۔

ایرانی خبررساں ادارے ’ارنا‘ نے ایرانی حکام کے حوالے سے کہا کہ امریکی تجویز ایران کے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتی۔

ایرانی حکام نے کہا کہ ایران کے لیے وہی تجویز قابل قبول ہو گی جو ایران کے مفادات سے مطابقت رکھتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی ختم کرنا ایران کے مفاد میں نہیں۔

ایرانی پارلیمان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی کمیٹی کے ترجمان کاظم جلالی نے کہا ہے کہ اگرچہ مذاکرات کی امریکی دعوت کا اعلان خوش آئند ہے لیکن پیشگی شرط نامناسب ہے۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ اگر ایران جوہری سرگرمیوں اور یورینیم افزودہ کرنے کا پروگرام ترک کردے تو امریکہ ایران اور یورپی اتحاد کے مذاکرات میں شرکت پر تیار ہے۔ پہلے سے تیار کیئے گئے ایک بیان میں کونڈولیزا رائس نے ایران پر زور دیا کہ وہ اگلے چند دنوں میں اس تجویز پر اچھی طرح سے غور کر لے۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ یہ تجویزسوئٹزرلینڈ کے ایلچی کے ذریعے ایران تک پہنچائی جائے گی۔

یورپی اتحاد جمعرات سے ویانا میں مراعات کے ایک پیکج کے ساتھ ایران سے مذاکرات کا آغاز کر رہا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان انیس سو اناسی سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ جونہی ایران نے جوہری پروگرام اور یورینیم کی افژودگی مکمل اور قابلِ تصدیق طور پر ختم کردی، امریکہ ایران سے بات چیت کے لیئے میز پر آ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوشش اس بات کا اظہار ہے کہ امریکہ تنازع ختم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرنے پر یقین رکھتا ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارئے کے سربراہ محمد البرادعی نے امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویر سولانہ نے امریکی تجویز پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے سمجھوتے کی عمومی خواہش کایہ ایک مثبت اشارہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد