ایران کے لیے نئے پیکج پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی برادری کے سفارت کار حاویئر سولانا نے کہا ہے کہ یورپی برادری ایران کو یورینیم کی افزودگی سے باز رکھنے کے لیے نیا پیکج بنا رہی ہے جس کے بارے میں انہیں امید ہے کہ وہ ایران کے لیے قابل قبول ہوں گا اور وہ انہیں رد نہیں کر سکے گا۔ حاویئر سولانا کے مطابق اس میں پیکج اقتصادی، جوہری اور ممکنہ طور پر سکیورٹی گارنٹایاں بھی شامل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران صرف جوہری توانائی ہی حاصل کرنا چاہتاہے تو ایران کے لیے ان نئی ترغیبات کو مسترد کردینا آسان نہ ہوگا۔ یورپی برادری کے ملکوں کے وزراء خارجہ ایران کے جوہری پروگرام پر غور کرنے کے لیے برسلز میں ایک ملاقات کر رہے ہیں۔ یورپی برادری اور امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد اور اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے ہے۔ حاویئر سولانا نے ایران کے صدر احمدی نژاد کے اس بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جس میں ایرانی صدر نے کہا تھا کہ ایران کس قسم کی پیش کش قبول نہیں کرئے گا اور اپنے پر امن جوہری پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا۔ روس اور چین دونوں ملکوں نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی ایسی قرار داد کی حمایت نہیں کریں گے جو اس پر اقتصادی پابندیاں یا فوجی اقدام پر منتج ہو۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ ایران اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے بارے میں جلد ہی کوئی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ کوفی عنان نے سیول میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو ایران اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے بارے میں جلد اقدامات لینے پڑیں گے ورنہ اس سے جوہری پھلاؤ کو خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ | اسی بارے میں پروگرام روکنے والی پیشکش نامنظور14 May, 2006 | آس پاس ’دھمکی کے دباؤ میں مذاکرات نہیں‘13 May, 2006 | آس پاس ایران سے مذاکرات: صدر بش پر دباؤ؟12 May, 2006 | آس پاس ’سفارتکاری بہترین طریقہ ہے‘10 May, 2006 | آس پاس ایران کو مذاکرات کاری کی پیشکش10 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||