پروگرام روکنے والی پیشکش نامنظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو کوئی ایسی پیشکش قبول نہیں ہو گی جس کے تحت ان کو اپنا ’پر امن‘ جوہری پروگرام بند کرنا پڑے۔ تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے پر آمادہ کرنے کے لیے اسے مختلف قسم کی پیشکش کر رہے ہیں۔ ان تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ پیر کو اس مسئلے پر بات چیت کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس سے قبل جوہری معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ یورپ کی طرف سے مسئلے کے حل کی کوشش مثبت اقدام ہے۔ ادارے کےسربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایران کو یورینیم کی افزودگی کے سے روکنے کے لیے جو پیشکش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے وہ جامع اور دلیرانہ ہونی چاہیے۔ کچھ مغربی ممالک کے خیال میں ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے لیکن ایران اس بات کی تردید کرتا ہے۔ بی بی سی کے نمائندے جوناتھن چارلس کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری توانائی خود تیار کرنے کی بجائے درآمد کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ | اسی بارے میں ایران سے مذاکرات: صدر بش پر دباؤ؟12 May, 2006 | آس پاس پیشکش جامع اور دلیرانہ ہو: برادعی 14 May, 2006 | آس پاس ایران کو مذاکرات کاری کی پیشکش10 May, 2006 | آس پاس ’سفارتکاری بہترین طریقہ ہے‘10 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||