پیشکش جامع اور دلیرانہ ہو: برادعی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی معاملات پی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایران کو یورینیم کی افزودگی کے سے روکنے کے لیے جو پیشکش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے وہ جامع اور دلیرانہ ہونی چاہیے۔ برطانوی، فرانسیسی اور جرمن حکام یورپی یونین کی طرف سے ایسی تکنیکی اور تجارتی سہولتوں پر مشتمل ایک ایسی جامع پیشکش پر غور کر رہے ہیں جس کے بدلے ایران کو جوہری پروگرام بند کرن پر آمادہ کیا جا سکے۔ اس پیشکش میں گزشتہ برس اگست میں پیش کی گئی مراعات کے علاوہ مزید مراعات بھی شامل کی جا رہی ہیں۔ ایران نے ان اطلاعات پر یہ کہہ کر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے کہ جوہری تحقیق اس کا حق ہے۔ تہران نے یہ کہہ کر مغربی ممالک کے خدشات رد کردیئے ہیں کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور اسے یورینیم کی افزودگی سے نہ روکا جائے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیئے گئے یورپی یونین کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر بین الاقوامی خدشات دور کر دیے جائیں تو یورپی یونین محفوظ اور دیرپا جوہری توانائی کی تیاری میں ایران کی مدد کرے گی‘۔ بی بی سی کے نمائندے جوناتھن چارلس کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری توانائی خود تیار کرنے کی بجائے درآمد کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ |
اسی بارے میں ’دھمکی کے دباؤ میں مذاکرات نہیں‘13 May, 2006 | آس پاس البرادعی سلامتی کونسل سے خوش11 May, 2006 | آس پاس ’سفارتکاری بہترین طریقہ ہے‘10 May, 2006 | آس پاس ایران کو مذاکرات کاری کی پیشکش10 May, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||