BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 May, 2006, 06:53 GMT 11:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دھمکی کے دباؤ میں مذاکرات نہیں‘
جوہری پلانٹ کے ورکر
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیئے ہے
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک طاقت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان سے مذاکرات کے لیئے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ’ایران اسرائیل کے علاوہ کسی بھی ملک سے مذاکرات کے لیئے تیار ہے لیکن اس صورت میں نہیں جب ہمارے سروں کے اوپر بم گرائے جانے کا خوف ہو‘۔

محمود احمدی نژاد نےکہا ہے کہ کسی کو بھی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

بالی میں مسلمان ممالک کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ان سب کو سو فیصد معلوم ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن ہے‘۔

یورپی یونین ایران کو جوہری پروگرام بند کرنے کی صورت میں مراعات پیش کرنے کی تجا ویز پر غور کر رہی ہے۔ اس پیکج میں گزشتہ برس اگست میں پیش کی گئی مراعات کے علاوہ مزید پیش کشیں بھی کی جائیں گی۔

ان مراعات میں سیاسی یقین دہانیوں کے علاوہ یورپ کے ساتھ تجارت میں مزید مراعات شامل ہو سکتی ہیں۔ اس پر سلامتی کونسل کے مستقل اراکین آئندہ ہفتے غور کریں گے۔

ایران نے یہ کہہ کر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے کہ جوہری تحقیق اس کا حق ہے۔

تہران نے یہ کہہ کر مغربی ممالک کے خدشات رد کردیئے ہیں کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیئے ہے اور اسے یورانیم کی افزودگی سے نہ روکا جائے۔

یورپی یونین کے رائٹرز نیوز ایجنسی کو دیئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر بین الاقوامی خدشات دور کر دیئے جائیں تو یورپی یونین محفوظ اور دیرپا جوہری توانائی کی تیاری میں ایران کی مدد کرے گی‘۔

بی بی سی کے نمائندے جوناتھن چارلس کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری توانائی تیار کرنے کی بجائے درآمد کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس سے قبل امریکہ نے کوفی عنان کی ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دو طرفہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا کہ ایران اس وقت تک صحیح طرح مذاکرات نہیں کرے گا جب تک امریکہ ان میں شامل نہ ہو۔

اب تک ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس درخواست کو رد کیا ہوا ہے جس میں اس سے یورینیم کی افزودگی بند کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ امریکہ کو شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔

جمعے کو یورپی سفارت کاروں نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو ایران میں سابقہ تحقیقی مرکز کے مقام پر، جسے 2004 میں ختم کر دیا گیا تھا، افزودہ یورینیم کے آثار ملے ہیں۔

کوفی عنان کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ ایران یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات میں ہر پیشکش سامنے لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ اہم ہے کہ امریکہ مذاکرات کی میز پر آئے اور ایران اور یورپی ممالک کے ساتھ مل کر مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرے‘۔

لیکن امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سین مک کورمیک نے اس درخواست کو رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران صرف مسئلے کو طول دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ہمارے خیال میں ہم اب صحیح سفارتی راستے پر ہیں۔ ایران کے مسائل تمام دنیا سے متعلقہ ہیں نہ کہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان‘۔

احمدی نژاد اورسوسیلو بمبنگ
ایران اور انڈونیشیا کے صدور بالی کانفرنس کے موقع پر

یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اگلے جمعہ امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے نمائندے لندن میں ایران کو مراعات یا سزا دینے کے متعلق معاملات پر گفتگو کریں گے۔

یورپی سفارت کاروں کے مطابق ایران کے ’لیویزاں شیان‘ پلانٹ سے بھی یورینیم کی افزودگی کے آثار ملے ہیں تاہم ان کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ افزودگی کی شرح جوہری ہتھیار بنانے کے لیئے مطلوبہ شرح سے بہت کم ہے۔

ایران کے پرامن توانائی کے حق کو بہت سے ممالک میں حمایت حاصل ہے تاہم ایسے بہت سے ملکوں کی حکومتیں امریکہ کی حلیف ہیں۔ سنیچر کے روز ایرانی صدر نے انڈونیشیا کے صدر اور پاکستان کے وزیر اعظم سے بند کمرے میں ملاقاتیں کیں۔

امریکی صدر جارج بشایران سے مذاکرات
بش انتظامیہ پر اندروونی اور بیرونی دباؤ؟
ایرانی صدر احمدی نژادایرانی صدر نے لکھا
’آزاد خیالی اور جمہوریت ناکام ہو گئیں‘
وزیرِخارجہ جیک سٹراایران پرایٹمی حملہ
امریکی حملہ، امریکی اطلاعات، برطانوی تردید
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد