BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 May, 2006, 02:31 GMT 07:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سفارتکاری بہترین طریقہ ہے‘
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور امریکی صدر جارج بش
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور امریکی صدر جارج بش
امریکی صدر جارج ڈبل یو بش نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام پر ایران کے ساتھ جاری جھگڑے کے حل میں سفارتکاری کے استعمال کو ترجیح دی جائے گی، اور یہی ان حالات میں سب سے بہتر طریقہ ہوگا۔

صدر بش نے یہ بات نیو یارک میں سلامتی کوسنل کے ممالک کے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس کے بعد کہی جس میں ایران کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وزراء کسی حکمت عملی پر متفق نہیں ہو سکے۔

 ادھر وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے خط کا کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا جائے گا۔

صدر بش کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری یہ یقین دہانی چاہتی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سفارتکاری ان کی اوّل ترجیح ہوگی کیونکہ بقول انکے ’مجھے یقین ہے کہ اس سے ہم کامیابی حاصل کر سکیں گے۔‘

وزرائے خارجہ کا اجلاس

صدر بش کے بیان سے پہلے سلامتی کونسل ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے معاملے میں کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔ یہ اجلاس تین گھنٹے تک جاری رہا۔

اب برطانیہ، فرانس اور جرمنی تین روز تک اس تجویز پر غور کریں گے جس کے تحت ایران کو تعاون کے بدلے کچھ مفادات دیے جائیں گے نہ صرف سزا کے طور پر پابندیاں ۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس اور چین چاہتے ہیں کہ ایران سے جارحانہ رویہ نہ اختیار کیا جائے بلکہ اسے تعاون سے کوئی فائدہ ہو۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے خط کا کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد