ایران سے مذاکرات: صدر بش پر دباؤ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق امریکی انتظامیہ پر ایران سے براہ راست مذاکرات شروع کرنے کے لیئے اندرونی اور بیرونی دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے خارجہ پالیسی کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کو ایران سے براہ راست بات نہ کرنے کی پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ دباؤ ایرانی صدر احمدی نژاد کے امریکی صدر جارج بش کو خط کے بعد زیادہ بڑھ چڑھ کر سامنے آیا ہے۔ صدر احمدی نژاد نے 8 مئی کو صدر بش کو ایک خط بھیجا تھا جس میں امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کی گئی تھی۔ امریکی انتظامیہ نے اس خط کو یہ کہہ کر ایک طرح سے رد کر دیا کہ اس میں ایران کے موجودہ جوہری بحران سے متعلق کوئی بات نہیں اور یہ صرف سلامتی کونسل میں ایران کا معاملہ پیش ہونے سے پہلے اس طرف سے توجہ ہٹانے یا وقت گزارنے کی ترکیب ہے۔ البتہ اس خط کی اس اہمیت سے کسی کو انکار نہیں کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ کسی ایرانی صدر کی طرف سے کسی امریکی رہنما سے پہلا براہ راست رابطہ یا پہلی خط و کتابت ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ریپبلکن سینیٹر چک ہیگل کے علاوہ سابق امریکی وزیر خارجہ میڈیلین آلبرائٹ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے مختلف اخبارات میں اپنے کالم لکھے ہیں اور انتظامیہ کی موجودہ پالیسی پر تنقید کی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ سابق یورپی وزراء خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے امریکہ سے براہ راست بات چیت کرنے کے لیے رضامند ہونے کے حالیہ مہینوں میں کئی عندیے دیے ہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے تین یورپی ممالک میں سے جرمنی کئی دفعہ یہ کہہ چکا ہے کہ جب تک امریکہ ایران سے براہ راست بات نہیں کرتا، بات آگے بڑھنے کا امکان بہت کم ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بھی بدھ کو ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اپنے اس بیان پر ابھی تک قائم ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت ہونی چاہیے اور انہوں نے اس سلسلے میں امریکی حکام سے بھی بات کی ہے۔ البتہ انہوں نے ایران کو بھی تنبیہہ کی کہ وہ اپنے جارحانہ انداز کو بدلے اور مذاکرات کے لیے رضامند رہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ ایران کو یورپی ممالک اور روس کی طرف سے بہت سی تجاویز پیش کی گئی ہیں اور ایران نے ان تجاویز پر کوئی مثبت رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ اس لیے کسی ایسے ملک سے بات کرنے کا کیا فائدہ جو عالمی برادری کی مانگیں پوری کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران سے براہ راست بات نہ کرنے سے امریکی انتظامیہ ان خدشات کو ہوا دے رہی ہے کہ دراصل صدر بش ایران پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن کچھ دوسرے مبصرین یہ کہتے ہیں کہ ایران کے صدر احمدی نژاد نے اپنے خط میں امریکہ سے اپنا مختلف نکتہ نظر جس طرح فلسفیانہ طور پر ظاہر کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اور یہ یاد رکھتے ہوئے کہ ایران صدر بش کے ’برائی کے محور‘ کا حصہ ہے، لگتا ہے کہ دونوں ملکوں میں اتنے اختلافات ہیں کہ مل بیٹھنے کا شاید کوئی فائدہ نہ ہو۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||