ہم کوئی بچے نہیں ہیں: احمدی نژاد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر احمدی نژاد نے یورپ کی جوہری افزودگی کا پروگرام معطل کرنے پر مراعات دینے کی ممکنہ پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی مذاکارت کار سونے کے بدلے ’اخروٹ اور چاکلیٹ‘ دے رہے ہیں۔ خیال ہے کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ ایران کو ہلکے پانی کا ری ایکٹر دینے کے بارے غور کر رہے ہیں۔ ایران یورپی طاقتوں کے ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ جوہری اسلحہ بنانا چاہتا ہے۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وفود نے جمعہ کے روز روس اور چین کے وفود سے ملاقات کرنا تھی لیکن بعد میں اسے موخر کر دیا گیا۔ اب توقع ہے کہ یہ میٹنگ دس دن کے بعد ہو گی۔ ایران کے وسطی شہر اراک میں اپنے حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغرب ایران کے ساتھ بچوں کی طرح کا سلوک کر رہا ہے۔ ’وہ کہتے ہیں کہ وہ ہمیں مراعات دیں گے! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ایک چار سالہ بچے کے ساتھ بات کر رہے ہیں جسکو آپ کچھ اخروٹ اور چاکلیٹ دے کر اس سے سونا لے لیں گے‘۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اب دوبارہ اپنا جوہری پروگرام معطل نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کو ان حکومتوں کو مجبور نہیں کرنا چاہیئے جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر چکی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس معاہدے سے انکار کر دیں۔ |
اسی بارے میں ایران کے لیے نئے پیکج پر غور 15 May, 2006 | آس پاس پروگرام روکنے والی پیشکش نامنظور14 May, 2006 | آس پاس ’دھمکی کے دباؤ میں مذاکرات نہیں‘13 May, 2006 | آس پاس ایران سے مذاکرات: صدر بش پر دباؤ؟12 May, 2006 | آس پاس ’سفارتکاری بہترین طریقہ ہے‘10 May, 2006 | آس پاس ’ایران کو بھی تباہ کیا جا سکتا ہے‘09 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||