BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 June, 2006, 10:38 GMT 15:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری مذاکرات، ایران کا رویہ مثبت
ایران کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی معطل نہیں کرے گا
جوہری معاملات سے متعلق ایران کے مذاکرات کار اعلٰی علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران کو حساس جوہری تحقیق روکنے کے بدلے میں جو مراعات پیش کی جارہی ہیں ان میں کچھ ابہامات کے ساتھ ’مثبت اقدامات‘ بھی ہیں۔

علی لاریجانی نے یہ بیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مغربی ممالک کی تجویز کا مسودہ وصول کرنے کے بعد دیا ہے۔ یہ مجوزہ منصوبہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی نے پیش کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ حاویے سولانا نے تہران کے دورے کے دوران یہ مشودہ ایرانی حکومت کے حوالے کیا ہے۔

ابھی ان تجاویز کی تفصیل تو جاری نہیں کی گئی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک یہ ہوسکتی ہے کہ ایران کو ایک جوہری ری ایکٹر فراہم کیا جائے گا اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کو محدود مقدار میں یورینیم فراہم کیا جائے۔

تہران نے کہا ہے کہ اگرچہ وہ اس منصوبے پر عور کرے گا تاہم یورینیم کی افزودگی معطل نہیں کی جائے گی۔

علی لری جانی سے دو گھنٹہ طویل ملاقات کے بعد توقع ہے کہ حاویے سولانا ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی سے بھی ملاقات کریں گے۔

ایرانی مذاکرات کار نے کہا ہے کہ ان کے مذاکرات تعمیری رہے اور تہران اس منصوبے کے بغور مطالعے کے بعد اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرے گا۔

سولانا کا کہنا ہے کہ مغرب باہمی احترام اور اعتبار پر مبنی تعلقات کا نئے سرے سے آغاز کرنا چاہتا ہے۔

سولانا کا آمد سے قبل منوچہر متقی نے کہا تھا کہ اگر مغرب کا مقصد اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا نہیں ہے تو پھر کسی معاہدے تک پہنچا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور ایران کے مابین ’شٹل ڈپلومیسی‘ شروع کی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی یورپی یونین گزشتہ سال والی اپنی غلطی نہیں دہرائے گی جب جوہری معاملے پر پیش کی گئی تجویز میں ایران کے نکتہ نظر کو نظر انداز کردیا گیا تھا۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ بیانیورپی یونین کے منصوبے پر ایران کے مثبت رویے کو ظاہر کرتا ہے۔

واشنگٹن کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم ایران کا اصرار ہےکہ اس کا جوہری پروگرام محض پر امن مقاصد کے لیئے ہے۔

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران مغربی دباؤ کے تحت جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد