مشروط مذاکرات پر تیار ہیں: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ ایران جوہری سرگرمیوں اور یورینیم افژودہ کرنے کا پروگرام ترک کردے تو امریکہ ایران اور یورپی اتحاد مذاکرات میں شرکت پر تیار ہے۔ یورپی اتحاد جمعرات سے ویانا میں مراعات کے ایک پیکج کے ساتھ ایران سے مذاکرات کا آغاز کر رہا ہے۔ پہلے سے تیار کیئے گئے ایک بیان میں کونڈولیزا رائس نے ایران پر زور دیا کہ وہ اگلے چند دنوں میں اس تجویز پر اچھی طرح سے غور کر لے۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ یہ تجویزسوئٹزرلینڈ کے ایلچی کے ذریعے ایران تک پہنچائی جائے گی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان انیس سو اناسی سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ جونہی ایران نے جوہری پروگرام اور یورینیم کی افژودگی مکمل اور قابلِ تصدیق طور پر ختم کردی، امریکہ ایران سے بات چیت کے لیئے میز پر آ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوشش اس بات کا اظہار ہے کہ امریکہ تنازع ختم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ | اسی بارے میں ایران سے مذاکرات نہیں: امریکہ25 May, 2006 | آس پاس ہم کوئی بچے نہیں ہیں: احمدی نژاد17 May, 2006 | آس پاس ایران سے مذاکرات: صدر بش پر دباؤ؟12 May, 2006 | آس پاس ایران کے لیے نئے پیکج پر غور 15 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||