ایران: کارٹون کی اشاعت، اخبار بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں ایک کارٹون کی وجہ سے ایڈیٹر اور کارٹونسٹ کوگرفتار اور اخبار کو غیر معینہ مدت کیلیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس کارٹون کی اشاعت کے بعد اقلیتی ازیری برادری احتجاجاً سڑکوں پر آ گئی اور شدید توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ کارٹون میں ایک کاکروچ کو ازیری زبان بولتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ازیری برادری ایران کے شمال مغربی علاقے میں رہتی ہے اور ازیری بولتی ہے۔ اس کارٹون کی اشاعت کے بعد ازیریوں نے تبریز میں سرکاری دفاتر پر حملے شروع کر دیے جن پر قابو پانے کے لیے پولیس کو آنسو گیس استعمال کرنا پڑی۔ ذرائع ابلاغ کی نگرانی کرنے والے ایرانی بورڈ نے اخبار کی اشاعت غیر معینہ عرصے کے لیے معطل کر دی ہے۔ اخبار کے ایڈیٹر اور کارٹونسٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بورڈ کا کہنا کہ اخبار نے توہین آمیز اور اشتعال انگیز مواد شائع کیا تھا۔ ازیری ایران کی آبادی کا24 فیصد ہیں اور ایران میں فارسی بولنے والی اکثریت ان کا مذاق اڑاتی رہتی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کارٹون ایک ایسے کارٹونسٹ مانا نیستانی نے بنایا ہے جو خود بھی ازیری ہیں۔
بچوں کے صفحات پر شائع ہونے والے اس کارٹون میں ایک بچے کو ایک کاکروچ سے فارسی میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جس کے جواب میں کاکروچ ازیری میں کہتا ہے:’ کیا‘۔ ایران کے وزیرِ داخلہ مصطفیٰ پور محمدی نے اس کارٹون کو تمام ایرانیوں کی ایسی توہین قرار دیا ہے جسے ان کے بقول ’برداشت نہیں کیا جا سکتا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس جرم سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا‘۔ ایران میں بی بی سی کے نامہ نگار فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ ایران میں اصلاح پسند اخبارات و جرائد کے خلاف تو کارروائی ہوتی ہی رہتی ہے لیکن ایسا کم ہوتا ہے کہ اس نے حکومتی ترجمانی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہو۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||