ایران مذاکرات کے لیئے تیار مگر۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ سے مذاکرات کرنے کے لیئے تیار ہے تاہم انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ یورینیئم کی افزودگی جاری رکھیں گے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی پر اپنے بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ’ ایران اپنے قومی حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور اس پر بات بھی نہیں ہوگی لیکن ہم باہمی دلچسپی کے معاملات پر بات چیت کے لیئے تیار ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’ اگر امریکہ موجودہ حالات میں کسی قسم کی تبدیلی کا خواہاں ہے تو اسے اپنا رویہ تبدیل کر کے منطقی اور باقاعدہ طریقے سے بات کرنا ہو گی‘۔ امریکہ نے بدھ کو کہا تھا کہ اگر ایران جوہری سرگرمیوں اور یورینیم افزودہ کرنے کا پروگرام ترک کردے تو وہ ایران اور یورپی اتحاد کے مذاکرات میں شرکت پر تیار ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے اور ایران کے جوہری مسئلے میں اپنے کردار کو موثر بنانے کی ایک کوشش ہے۔ اس سے قبل امریکہ کی طرف سے جوہری پروگرام کے بارے میں براہ راست مذاکرات کی تجویز کو ایران کے سرکاری خبررساں ادارے نے ایک ’پراپیگنڈہ‘ قرار دیا تھا۔ ایرانی خبررساں ادارے ’ارنا‘ نے ایرانی حکام کے حوالے سے کہا کہ امریکی تجویز ایران کے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ایران کے لیئے وہی تجویز قابل قبول ہو گی جو ایران کے مفادات سے مطابقت رکھتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی ختم کرنا ایران کے مفاد میں نہیں۔ ایرانی پارلیمان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی کمیٹی کے ترجمان کاظم جلالی نے کہا ہے کہ اگرچہ مذاکرات کی امریکی دعوت کا اعلان خوش آئند ہے لیکن پیشگی شرط نامناسب ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ اگر ایران جوہری سرگرمیوں اور یورینیم افزودہ کرنے کا پروگرام ترک کردے تو امریکہ ایران اور یورپی اتحاد کے مذاکرات میں شرکت پر تیار ہے۔ پہلے سے تیار کیئے گئے ایک بیان میں کونڈولیزا رائس نے ایران پر زور دیا کہ وہ اگلے چند دنوں میں اس تجویز پر اچھی طرح سے غور کر لے۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ یہ تجویزسوئٹزرلینڈ کے ایلچی کے ذریعے ایران تک پہنچائی جائے گی۔
یورپی اتحاد جمعرات سے ویانا میں مراعات کے ایک پیکج کے ساتھ ایران سے مذاکرات کا آغاز کر رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان انیس سو اناسی سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ جونہی ایران نے جوہری پروگرام اور یورینیم کی افژودگی مکمل اور قابلِ تصدیق طور پر ختم کردی، امریکہ ایران سے بات چیت کے لیئے میز پر آ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوشش اس بات کا اظہار ہے کہ امریکہ تنازع ختم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارئے کے سربراہ محمد البرادعی نے امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویر سولانہ نے امریکی تجویز پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے سمجھوتے کی عمومی خواہش کایہ ایک مثبت اشارہ ہے۔ | اسی بارے میں ایران سے مذاکرات نہیں: امریکہ25 May, 2006 | آس پاس ہم کوئی بچے نہیں ہیں: احمدی نژاد17 May, 2006 | آس پاس ایران سے مذاکرات: صدر بش پر دباؤ؟12 May, 2006 | آس پاس ایران کے لیے نئے پیکج پر غور 15 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||