مذاکرات مثبت پش رفت ہے: پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کثیر الملکی بات چیت میں امریکہ کی شمولیت کے لیئے رضامندی سے ایران کا جوہری تنازعہ سفارتی طور پر حل کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران یورینیئم کی افزودگی روک دے تو امریکہ یورپی یونین اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شرکت کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ ابتدا سے ہی طاقت کے استعمال کے خلاف ہے اور چاہتا ہے کہ معاملہ بات چیت کے ذریعے طے پا جائے۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ تمام فریق اپنے عالمی اصولوں کی پاسداری کریں اور ایران کے جوہری معاملے کا پرامن حل تلاش کرنے میں کوئی کوشش باقی نہیں چھوڑنی چاہیے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ جوہری پھیلاؤ کے سخت مخالف ہیں لیکن ایران کے پرامن مقاصد کے لیئے جوہری پروگرام کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ایران کا پرامن مقاصد کے لیئے جوہری پروگرام عالمی جوہری ادارے کے وضح کردہ اصولوں کے ماتحت ہونا چاہیئے۔ واضح رہے کہ یورپی اتحاد ایران کے ساتھ ویانا میں جمعرات کے روز مراعات کے پیکیج کے ساتھ بات چیت شروع کرنے والا ہے۔ | اسی بارے میں ’پاکستانی ایران کاساتھ دیں گے‘05 May, 2006 | پاکستان ’جوہری ہتھیاروں کی گنجائش نہیں‘25 May, 2006 | پاکستان ایک اور ایرانی اہلکار پاکستان میں25 May, 2006 | پاکستان شوکت عزیز ایران کے دورے پر22 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||