ایک اور ایرانی اہلکار پاکستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے اول نائب صدر پرویز داؤدی جوہری معاملات سمیت اقتصادی، تجارتی اور دیگر دو طرفہ امور پر بات چیت کے لیے دو روزہ دورے پر جمعرات کے روز اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی نائب صدر وزیراعظم سے ملاقات کریں گےاور وفود کی سطح پر باضابطہ بات چیت کریں گے جبکہ بعد میں صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملیں گے۔ ایک ہفتے کے اندر پرویز داؤدی تیسرے بڑے ایرانی اہلکار ہیں جو پاکستان پہنچے ہیں۔ چند روز قبل ایران کے توانائی کے وزیر گیس پائپ لائن پر بات چیت کے لیئے آئے تھے اور دو روز قبل ایران کے وزیر خارجہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کے لیئے اسلام آباد پہنچے تھے۔ پاکستان حکومت بارہا اپنا موقف دہراتے ہوئے کہتی رہی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا تنازعہ سفارتی سطح پر بات چیت کے ذریعے طے کیا جائے اور پاکستان ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی واضح طور پر مخالفت کر رہا ہے۔ ایران کے اول نائب صدر پرویز داؤدی جب چکلالہ ایئر بیس پر اپنے خصوصی طیارے کے ذریعے پہنچے تو ان کا وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور وزیر مہمانداری طارق عظیم نے استقبال کیا۔ وزیراعظم شوکت عزیز کی دعوت پر اسلام آباد پہنچنے والے مہمان نائب صدر کو پاک فضائیہ نے سلامی پیش کی اور انہیں انیس توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی نائب صدر گیس پائپ لائن پر ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کا جائزہ لیں گے، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے کے بارے میں مشترکہ اقتصادی کمیشن کے دو روزہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی روشنی میں پاکستانی قیادت سے اپنے دو طرفہ تعلقات مزید بڑھانے پر بات کریں گے۔ وزیراعظم سے بات چیت کے بعد دونوں ممالک اپنے تجارتی اور اقتصادی تعلقات بہتر بنانے دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے بارے میں معاہدوں پر دستخط بھی کریں گے۔ دریں اثنا ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب خورشید محمود قصوری سے ملاقات کی ہے اور دونوں ممالک نے ڈھائی کروڑ ڈالر کی مشترکہ سرمایہ کاری سے کراچی میں ایک کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمپنی دونوں ممالک کے درمیاں تجارت اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دے گی۔ دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے دو روزہ اجلاس کے اختتام کے موقع پر انہوں نے بتایا ہے کہ دو طرفہ تجارت کا سالانہ حجم جو کہ اس وقت تین سو نوے ملین ڈالر ہے اُسے بڑھا کر ایک ارب ڈالر کیا جائے گا۔ بات چیت کے بعد جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایران اپنی ایک بینک کی شاخ بھی کراچی میں کھولے گا۔ ایرانی وزیر نے دونوں ممالک کے جانب سے ترجیحی تجارت کے معاہدے کی توثیق کے بارے میں بھی خورشید قصوری کو مطلع کیا۔ یہ معاہدہ گزشتہ برس ہوا تھا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعے، افغانستان اور عراق کی صورتحال سمیت مختلف امور پر بات چیت کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ خورشید محمود قصوری نے زور دیا ہے کہ ایران کا جوہری معاملا بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ | اسی بارے میں پاکستان اور ایران کا گیس سمجھوتہ30 April, 2006 | پاکستان ’سفارتکاری بہترین طریقہ ہے‘10 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||