پاکستان اور ایران کا گیس سمجھوتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ایران کے درمیان پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن کے تکنیکی معاملات پر بہت حد تک اتفاق ہوگیا ہے۔ دونوں ممالک کی وزارتِ تیل کے اعلٰی عہدیداران کا کہنا ہے کہ اس پائپ لائن پر بھارت کی شمولیت یا عدم شمولیت کے باوجود پاکستان ایران سے روزانہ دو اعشاریہ آٹھ بلین کیوبک فٹ گیس لےگا۔ اس پائپ لائن منصوبے پر دونوں ممالک کی وزراتِ تیل کے حکام اس برس جون میں ایک معاہدے پر بھی دستخط کریں گے جس کے مطابق دونوں ممالک کی حکومتیں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے اپنی وابستگی کا عہد کریں گی۔ اسلام آباد میں پاکستان کی وزارتِ تیل اور ایرانی نائب وزیر تیل ڈاکٹر نژاد حسینیان کے درمیان تین روزہ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق اس پائپ لائن منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیئے کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔ پاکستان کے سیکرٹری تیل احمد وقار نے اس بات چیت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان ایران اور ترکمانستان سے دو گیس پائپ لائنوں پر مذاکرات کر رہا ہے تاہم آج ایران کے ساتھ سمجھوتہ طے پا گیا ہے کہ ایران پاکستان کو سرحد پر دو اعشاریہ آٹھ ارب کیوبک فٹ گیس روزانہ فراہم کرے گا اور اس گیس کی قیمت کا تعین بھی اگلے ماہ ہو جائے گا۔ ایران سے پاکستان کو گیس سرحد پر فراہم کی جائے گی جہاں سے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے نزدیک واقع علاقے بھونگ تک پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ پاکستان کے سیکریٹری تیل نے کہا کہ پاکستان اس گیس منصوبے کے تخمینے کی رپورٹ بھی جلد ہی تیار کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران۔پاکستان گیس منصوبے پر تقریباً دو سے ڈھائی ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان۔ایران اور بھارت کے حکام اس پائپ لائن کے بارے میں سہ فریقی مذاکرات اگلے ماہ اسلام آباد میں کریں گےجس میں اس پائپ لائن کو بھارت تک لے جانے اور اس سلسلے میں تکنیکی معاملات پر بات ہو گی۔ جب پاکستان کے سیکرٹری تیل سے اس پائپ لائن کی امریکی مخالفت کے بارے میں سوال کیئے گئے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان اس پائپ لائن منصوبے کو اپنے قومی مفاد کے تناظر میں دیکھ رہا ہے کیونکہ پاکستان کو مستقبل میں معیشت کو آگے بڑھانے میں توانائی کی سخت ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اس منصوبے کا حصہ بنتا ہے تو شاید ایران سے پاکستان تک دو پائپ لائنیں بچھانی پڑیں گی۔ ایران پر ممکنہ بین الاقوامی پابندیوں کے اس منصوبے پر اثرات کے بارے میں ایرانی نائب وزیر تیل نژاد حسینیان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر کی درآمدات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس سے تیل کی عالمی منڈی پر نہایت منفی اثر پڑے گا اور تیل کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ ہو سکتا ہے لہذا اقوام متحدہ یا کوئی اور تنظیم ایسی پابندیاں عائد نہیں کر سکتیں۔ | اسی بارے میں پاک امریکہ: پہلا دور بے نتیجہ28 April, 2006 | پاکستان توانائی مذاکرات، تجاویز کا تبادلہ13 March, 2006 | پاکستان ایرانی سرحد تک ریل سروس معطل08 March, 2006 | پاکستان ایران پائپ:امریکی موقف میں نرمی 05 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||