ایران پائپ:امریکی موقف میں نرمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا کے دورہ کے دوران امریکی صدر نے ایران، پاکستان، انڈیا پائپ لائن پر اپنےموقف میں نرمی ظاہر کی ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ ایران، انڈیا پائپ لائن منصوبے کی مخالفت کی ہے اور اس کا موقف رہا ہے کہ جوملک بھی اس منصوبے میں شامل ہوگا اس کو امریکی قانون کے مطابق اقتصادی پابندیاں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر نے پاکستان میں کہا کہ وہ علاقےمیں گیس کی ضرورتوں کو سمجھتے ہیں اور امریکہ کو ایران کے گیس منصوبے سے نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام سے شکایت ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ گئے تو یہ کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ہو گا۔ صدر جارج بش نے کہا کہ پاکستانی صدر پرویز مشرف سے بات چیت کے دوران ایران انڈیا گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی زیر بحث آیا اور وہ علاقے کی گیس کی ضرورتوں کو سمجھتے ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ پاکستان کی توانائی کی ضرورتوں پر بات چیت کے لیے امریکہ کے توانائی کے وزیر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ چھ ارب ڈالر کی مالیت کے ایک منصوبے کے بارے ایران، پاکستان اور بھارت کا کہنا ہے کہ اس کے بارے میں جلد معاہدہ طے ہو جائے گا اور سن 2007 میں پائپ لائن کی تعمیر پر کام شروع ہو جائے گا۔ | اسی بارے میں ’موہن گیس مہنگی نہیں کریں گے‘21 May, 2004 | انڈیا پائپ لائن منصوبے پر مذاکرات09 February, 2005 | انڈیا گیس پائپ لائن پر بات چیت شروع 12 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||